شاہ علی بنڈہ ہٹ اینڈ رن کیس ، خاطیوں کی گرفتاری

   

Ferty9 Clinic

ملزمین کی آج عدالت میں پیشکشی ، بینز کار ضبط ، ٹاسک فورس پولیس کی کارروائی
حیدرآباد: پرانے شہر کے علاقہ نئی سڑک شاہ علی بنڈہ پر پیش آئے ایک خوفناک سڑک حادثہ کے کیس میں خاطی کار ڈرائیور اور اس کے تین ساتھی بشمول دو کم عمر لڑکوں کو حسینی علم پولیس نے گرفتار کرلیا۔ برق رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک آٹو کو ٹکر دے دی تھی جس کے نتیجہ میں گداگر خاتون سالماں ہلاک ہوگئی تھی جبکہ آٹو ڈرائیور صلاح الدین اور یشونت زخمی ہوگئے تھے ۔ اس حادثہ کے بعد کار ڈرائیور وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔ علاقہ میں سنسنی پھیلانے کے بعد فوری وہاں سے فرار ہونے والے کار ڈرائیور کی گرفتاری کیلئے پولیس نے کل رات دیر گئے اس کے مکان واقع جہانگیر نگر تالاب کٹہ پر دھاوا کیا اور وہاں سے مرسڈیز بینز کار جس کا نمبر MH04 EX8282 ہے کو ضبط کرلیا ۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران یہ پتہ لگایا کہ انتہائی لاپرواہی سے گاڑی چلانے والا کار ڈرائیور تالاب کٹہ کا ساکن محمد عادل خان ہے، جس کا گٹھکے کا کاروبار بتایا جاتا ہے ۔ حادثہ کے بعد عادل خان فرار ہوگیا تھا اور پولیس اسے دن بھر تلاش کرتی رہی لیکن شام میں ساؤتھ زون ٹاسک فورس پولیس نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو شمس آباد علاقہ سے گرفتار کر کے شہر منتقل کیا اور حسینی علم پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے پتہ لگایا کہ محمد عادل خاں اور اس کے ساتھی ایک شادی کی تقریب سے خلوت علاقہ سے بذریعہ نئی سڑک شاہ علی بنڈہ برق رفتاری سے کار چلاتے ہوئے اپنے مکان کی سمت جارہے تھے جہاں پر ایک آٹو کو ٹکر دے دی اور بعد ا زاں مغلپورہ کے علاقہ سلطان شاہی میں بھی ایک شخص کو ٹکر دے کر وہاں سے فرار ہوگئے۔ مغلپورہ پولیس نے ایک علحدہ مقدمہ درج کیا۔ حسینی علم پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمین کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔