شاہ میر پیٹ مسجد کی تعمیر کیلئے مقامی ہندوؤں کا تعاون حاصل

   

ہندو مذہبی شخصیتوں کی وزیر داخلہ محمود علی سے ملاقات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل
حیدرآباد۔10 فروری (سیاست نیوز) شاہ میر پیٹ میں لینڈ مافیا کی جانب سے شہید کردہ قطب شاہی مسجد کی تعمیر نو میں مقامی غیر مسلم قائدین و مذہبی شخصیتوں نے مکمل تعاون کا پیشکش کیا ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی سے شاہ میر پیٹ کے سرپنچ ، مقامی قائدین و پنڈتوں اور پجاریوں کے وفد نے ملاقات کی۔ انہوں نے مسجد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرکے دوبارہ تعمیر کی خواہش کی ۔ مذہبی شخصیتوں نے کہا کہ تلنگانہ میں قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی برقراری کیلئے کے سی آر حکومت تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف زبانی جمع خرچ کی بجائے حکومت با عمل ہے۔ تلنگانہ عوام سے جو وعدے کئے گئے ، ان کی تکمیل کی گئی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کی ہدایت دی گئی اور وقف بورڈ سے 5 لاکھ روپئے جاری کئے گئے ۔ تعمیری کام تیزی سے جاری ہیں۔ مقامی سرپنچ کرشنا ریڈی ، یادگیری اور دیگر قائدین نے وزیر داخلہ کو تہنیت پیش کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مسجد کی تعمیر کیلئے درکار اضافی رقم وقف بورڈ سے منظور کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے۔ ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے اقدامات کئے گئے ۔ سرپنچ رویندر ریڈی نے کہا کہ یاقوت پور موضع میں آبادی نہیں ہے جبکہ مور چنتلا پلی اور آدیامری مواضعات میں عوام بلا لحاظ مذہب و ملت مسجد کی تعمیر کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی مسجد کی بحالی میں گاؤں والوں کا تعاون رہے گا۔ پنڈتوں اور پجاریوں نے وزیر داخلہ کو مذہبی رواداری سے متعلق اشلوک سنائے اور کہا کہ ہر مذہب میں دوسرے مذاہب کے احترام کی تلقین کی گئی ۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ شاہ میر پیٹ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی اور مسجد کی شہادت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔ ر