صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کا دورہ، ملزمین کے خلاف ایف آئی درج، سکریٹریٹ کی مساجد کے تعمیری کام جاری
حیدرآباد۔/8 فروری، ( سیاست نیوز) شہر کے مضافاتی علاقہ شاہ میر پیٹ میں شہید کردہ مسجد کو آج نماز عصر کی باجماعت ادائیگی کے ذریعہ دوبارہ آباد کردیا گیا۔ لینڈ مافیا کی جانب سے میڑچل۔ ملکاجگیری ضلع کے شاہ میر پیٹ منڈل میں قدیم قطب شاہی مسجد کو اشرار کی جانب سے شہید کردیا گیا تھا اور قریب میں واقع قبور کو نقصان پہنچایا گیا۔ اطلاع ملتے ہی صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کی ٹیم روانہ کرکے پولیس شاہ میر پیٹ میں ایف آئی آر درج کرایا۔ شریمتی ونودا ریڈی، ست نارائن ریڈی اور محمد شاہنواز کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 447 ، 427، 295 اور 41 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس گرفتاری کی مساعی کررہی ہے۔ 9 ایکر 20 گنٹہ وقف اراضی گزٹ 7A میں نوٹیفائیڈ ہے اور اسے غیر قانونی فروخت کیا جاچکا ہے۔ وقف بورڈ عہدیداروں کی جانب سے مسجد کی تعمیر نو کی کارروائی شروع کردی گئی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج شام شخصی طور پر مسجد کے تعمیری کاموں کا معائنہ کیا اور نماز عصر کی امامت کی اور نمازوں کے اہتمام کیلئے خصوصی شامیانہ نصب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے مصارف سے نئی مسجد تعمیر کی جائیگی۔ محمد سلیم نے کہا کہ غیر قانونی فروخت کیلئے جعلی پٹہ ، پہانی اور رجسٹریشن کو منسوخ کرانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل رات سے ہی اراضی کی صفائی اور حد بندی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2011 میں کانگریس دور حکومت میں وقف اراضی کو فروخت کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں محمد سلیم نے کہا کہ سکریٹریٹ کی مساجد کی تعمیر کا کام جاری ہے اور پارکنگ کی جگہ کے تعین کیلئے پلان میں جزوی تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں مساجد کی تعمیر مکمل ہوجائیگی ۔ رمضان المبارک میں سکریٹریٹ کی مساجد عبادتوں سے آباد ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مساجد کی تزئین نو اور ترقی کیلئے 70 لاکھ روپئے مختص کئے گئے اور کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں ابھی تک 500 سے زائد غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کرائے ۔ حکومت کے تعاون سے یہ ممکن ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں کئی مساجد کو شہید کیا گیا جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے 7 غیر آباد مساجد کو آباد کرایا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر وقف اراضیات کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے انیس الغرباء کامپلکس کیلئے 4000 گز آر اینڈ بی کی اراضی حوالے کی ہے۔ر