شخصی فائدہ کے بجائے تلنگانہ کیلئے خصوصی پیاکیج حاصل کریں

   

Ferty9 Clinic

کے سی آر کو محمد علی شبیر کا مشورہ،چیف منسٹر ہریانہ کے خلاف کارروائی کا مودی سے مطالبہ

حیدرآباد۔/13 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سینئر کانگریسی قائد اور سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے موقع پر تلنگانہ کیلئے خصوصی پیاکیج حاصل کریں جس سے ریاست کی ترقی میں مدد ملے۔ محمد علی شبیر نے ٹوئٹر پرکے سی آر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے پارلیمنٹ کے گزشتہ سیشن میں تمام اہم بلز کی منظوری میں بی جے پی حکومت کی مدد کی ہے۔ آپ جب 20 اگسٹ کو وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے ہیں اس وقت شخصی فائدے حاصل کرنے کے بجائے ریاست کیلئے ایک بڑا پیاکیج حاصل کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں طلاق ثلاثہ، کشمیر کی دفعہ 370 کی برخواستگی، آر ٹی آئی اور انسداد دہشت گردی قانون کی منظوری میں ٹی آر ایس نے حکومت کی کھل کر تائید کی ہے۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کو یہ کہتے ہوئے دھوکہ دیا گیا کہ ٹی آر ایس سیکولر پارٹی ہے اور ہمیشہ سیکولرازم پر قائم رہے گی۔ مسلمانوں کے مسائل پر بی جے پی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا لیکن پارلیمنٹ میں جب سیکولرازم کے اظہار کا وقت آیا تو ٹی آر ایس نے بی جے پی کی تائید کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تائید کے عوض میں کے سی آر کو شخصی مفادات کی تکمیل سے دلچسپی ہے۔ انہیں چاہیئے کہ وہ ریاست کی ترقی کی فکر کریں۔ اسی دوران محمد علی شبیر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھتر کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے کشمیری خواتین کے بارے میں نازیبا ریمارکس کئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ کاماریڈی کی عید گاہ میں مسلمانوں نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے کھتر کے خلاف کارروائی کا وزیر اعظم سے مطالبہ کیا۔

محمد علی شبیر نے کہا کہ کھتر کے ریمارک انتہائی نامعقول اور اشتعال انگیز ہیں۔ نریندر مودی کشمیر کی دفعہ 370 کی برخواستگی کے ذریعہ وادی میں نئے دور کے آغاز کا دعویٰ کررہے ہیں جبکہ بی جے پی قائدین کشمیری خواتین کے بارے میں اہانت آمیز ریمارکس کے ذریعہ اپنی ذہنی خباثت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ وادی میں امن بحال ہو لیکن بی جے پی قائدین اپنے بیانات کے ذریعہ اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہے ہیں اور وہ قیام امن کے دشمن ہیں۔ اگر وزیر اعظم کشمیر میں قیام امن میں سنجیدہ ہیں تو پھر چیف منسٹر ہریانہ کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ عید گاہ میں ہزاروں مسلمانوں نے قرارداد کی تائید کی۔ انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی کی تائید کرنے والے دیش بھکت اور مخالفت کرنے والے دیش دروہی قراردیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں اظہار خیال کی آزادی ہے اور ہر کسی کو حکومت کے اقدامات پر سوال کرنے کا حق حاصل ہے۔