شدید بارش سے پاک اور افغان میں 45 ہلاک، سینکڑوں بے گھر

   

کابل ۔ 31 مارچ (ایجنسیز) پاکستان اور افغانستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے اداروں کے حکام نے کہا ہے کہ شدید طوفان اور بارشوں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران افغانستان اور پاکستان میں کم از کم 45 افراد کی جان لے لی ہے۔ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں صوبائی ادارہ برائے آفات (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، بدھ سے اب تک 17 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جمعرات سے جاری بارشوں نے متعدد صوبوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ افغانستان کے اے این ڈی ایم اے مطابق حالیہ طوفان اور بارشوں میں 28 افراد جان سے گئے اور 49 زخمی ہوئے جبکہ 100 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔افغان پولیس کے ترجمان صدیق اللہ صدیقی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’افغانستان میں ہلاک ہونے والوں میں شمال مغربی صوبہ بادغیس کا ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جو آسمانی بجلی کی زد میں آ گیا۔‘پولیس ترجمان کے مطابق تین افراد اس وقت ڈوب کر ہلاک گئے جب وہ ایندھن کیلئے لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ طوفانی موسم نے کم از کم 130 گھر تباہ کیے ہیں، جبکہ 430 سے زیادہ گھر تباہ ہوئے۔صوبائی ادارہ برائے آفات کے مطابق، افغانستان کے وسطی صوبہ دایکُندی میں چھت گرنے سے پانچ سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔پولیس اہلکار سید طیب احمد کے مطابق پاکستانی سرحد سے متصل مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک خاتون ہلاک ہوئی۔ افغانستان کا ادارہ برائے آفات لوگوں کو ’دریاؤں اور سیلاب زدہ ندیوں سے دور رہنے اور موسم کی پیشن گوئیوں‘ پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی وارننگ دے چکا ہے۔حکام نے کہا کہ ’بارشوں اور طوفانوں کی پیش گوئی کے باعث وسطی اور مشرقی افغانستان میں کئی شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔
‘رواں سال کے آغاز میں جنوری میں برف باری اور شدید بارش سے 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ اسی سال شدید طوفان اور بارشوں کی دوسری لہر ہے۔