شدید معاشی بحران کے باوجود لبنان کے وزیر اعظم کا استعفیٰ سے انکار

,

   

بیروت ۔مشکلات میں گھرے لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ اصلاحات لائیں گے۔میڈیا کے مطابق اپنے استعفی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں ایسی رپورٹس کو فرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک میں اقتدار میں ہوں، لبنان کسی اور کے قابو میں نہیں ہوگا۔لبنان کے وزیراعظم نے یہ بات اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہ مشلی بیشلے کے اس انتباہ کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لبنان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور حالات تیزی سے حکومت کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔مشلی بیشلے نے وزیراعظم دیاب کی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملک میں فوری اصلاحات کا آغاز کریں۔ لبنانی وزیراعظم کو امریکن یونیورسٹی آف بیروت کی طرف سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ وزیراعظم بننے سے قبل حسن دیاب امریکی یونیوسٹی میں پروفیسر تھے۔امریکن یونیورسٹی آف بیروت کے صدر فدلو خوری نے کہا ہے کہ جب سے یہ حکومت قیام میں آئی ہے اس میں ذرا سی بھی صلاحیت بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے یونیورسٹی کو طبی سہولیات کی مد میں 150 ملین ڈالرز ادا کرنے ہیں۔یونیورسٹی کے صدر نے کہا کہ حکومت کم از کم حکومت رقم کی ادائیگی سے متعلق بات چیت ہی کر لے۔واضح رہے کہ لبنان کی کرنسی میں گراوٹ کے بعد معاشی صورتحال کافی خراب ہوچکی ہے۔لبنان میں معیشت کی خستہ ہوتی صورتحال میں روزمرہ خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ بھی ہو رہا ہے۔اسی وجہ سے فوج کے سپاہیوں کے کھانے کے مینو سے گوشت کو بھی نکال دیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلیک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت آٹھ ہزار لبنانی پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کا سرکاری نرخ ایک ہزار 507 لبنانی پاؤنڈ ہے۔کساد بازاری کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔