موبائل کے عادی بچے تنہائی پسند۔ ورلڈاسٹروک ڈے کے موقع پر ڈاکٹرس کا خطاب
حیدرآباد۔29/اکٹوبر۔ ( راست ) ۔ برین اسٹروک کے بعداندرون ساڑھے چارگھنٹے اگرمتاثرہ فرد کو ہاسپٹل پہنچا دیا جائے تومزید نقصان سے بچایاجاسکتاہے۔ اگرچہ کہ اسٹروک کی وجہ سے دماغ کے جو خلیے متاثرہوتے ہیں‘ انہیں توبحال نہیں کیا جاسکتاتاہم جو خلیے متاثرہونے سے بچ گئے انہیں متاثرہونے سے انجکشن کے ذریعہ محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ورلڈاسٹروک ڈے کے موقع پر گلین فیلڈ ملاریڈی برین اینڈ ہارٹ ہاسپٹل نے اسٹروک سے متعلق شعوربیداری تحریک کی کڑی کے طورپر میڈیاکانفرنس کا میڈیا پلس آڈیٹوریم میں اہتمام کیا جس سے ڈاکٹر شکیب احرار نیورو فزیشن‘ڈاکٹر محمد علی نیوروسرجن‘ ڈاکٹر محمد یوسف ماہرامراض ذیابطین وجنرل فزیشن‘ ڈاکٹرستیش کمارسرجن نے خطاب کیا۔ انہوں نے بتایاکہ برین اسٹروک دوقسم کے ہوتے ہیں‘ دماغ کو خون سربراہ کرنے والی نس میں اگر خون منجمد ہوجائے تو اسٹروک ہوتاہے اوردماغ کے اندرنس پھٹ جاتی ہے تو دماغ کو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اسٹروک ہوتاہے۔ تمباکو‘ شراب نوشی‘ شوگر‘ و موٹاپا‘ ہائی بلڈپریشربرین اسٹروک کا سبب بنتے ہیں۔ اسکا سرجیکل اور نان سرجیکل علاج ہوتاہے۔ ڈاکٹرس کی ٹیم نے اسٹروک کی علامات پر روشنی ڈالی اوربتایاکہ مسکراتے وقت اگر چہرہ کا ایک حصہ ٹیڑھا نظرآئے‘ دونوں ہاتھ اوپراٹھانے میں دقت محسوس ہو تو یہ اس کی علامات میں سے ایک ہے۔ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کے متعلق بتایاکہ طرززندگی میں تبدیلی‘ بازاری کھانے‘آرام پسند کام‘ ورزش نہ کرنے کی وجہ سے نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک ہورہے ہیں ۔ موبائل کے زیادہ استعمال سے متعلق انہوں نے بتایاکہ موبائل فون کے عادی بچے تنہائی پسند ہوجاتے ہیں‘ ان کے مزاج میں چڑچڑاپن اورمیل ملاپ سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹرس نے صحت مند زندگی کیلئے پھل‘ سبزیوں کے استعمال کی تلقین کی۔ ڈاکٹریونس انصاری نے نگرانی کی۔