دیگر ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا معاہدہ، منیش سیسوڈیا جیل میں لیکن بی آر ایس قائدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں
حیدرآباد۔/4 جولائی، ( سیاست نیوز ) ملک کی سیاست میں تہلکہ مچانے والے شراب اسکام کی تحقیقات کی رفتار تلنگانہ میں اچانک سُست ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں کے سی آر کی دختر کویتا کو بڑی راحت ملی۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے شراب اسکام کے سلسلہ میں دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کو گرفتار کیا اور وہ طویل عرصہ سے ضمانت کے بغیر جیل میں بند ہیں۔ کئی سرکردہ تاجروں اور سیاسی قائدین کو بھی ای ڈی نے اپنی تحقیقات میں شامل کیا اور اسکام میں ملوث افراد کے بارے میں ٹھوس شواہد اکٹھا کئے۔ چیف منسٹر کے سی آر کی دختر کویتا کا شراب اسکام میں نام آنے کے بعد تلنگانہ کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی اور بی جے پی قائدین کھل کر بیان دینے لگے کہ بہت جلد کویتا کو گرفتار کیا جائے گا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کویتا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نئی دہلی طلب کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ میں پیش ہونے کے بعد سے تلنگانہ میں شراب اسکام کی تحقیقات سُست روی کا شکار ہوچکی ہیں۔ اسکام کے کئی گواہوں نے کویتا کے رول کے بارے میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو واقف کرایا لیکن انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کویتا کو دوبارہ تحقیقات کیلئے طلب نہیں کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت اور بی جے پی قیادت سے خفیہ سمجھوتہ کے نتیجہ میں کے سی آر خاندان کو راحت ملی ہے اور کویتا کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے موقف میں نرمی دیکھی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد بی آر ایس قائدین اور خود کویتا مطمئن دکھائی دے رہی ہیں۔ شراب اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد کویتا کے علاوہ چیف منسٹر کے قریبی سمجھے جانے والے رشتہ دار اور رکن راجیہ سبھا کا نام بھی میڈیا میں گشت کررہا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی امکانی کارروائی کے خوف سے چیف منسٹر نے مذکورہ رکن راجیہ سبھا کو کچھ عرصہ تک پرگتی بھون سے دور رکھا گیا اور وہ گوشہ گمنامی میں چلے گئے تھے۔ مرکز سے مفاہمت اور واضح تیقن کے بعد رکن راجیہ سبھا دوبارہ سرگرم ہوچکے ہیں اور چیف منسٹر کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کے سی آر نے بی آر ایس کے ذریعہ ملک کی کئی ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے خاندان کو تحقیقاتی ایجنسیوں سے بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مہاراشٹرا، راجستھان، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں بی آر ایس کے مقابلہ کے ذریعہ سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ تلنگانہ میں کانگریس سے سخت مقابلہ کے باوجود کے سی آر نے مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں بی آر ایس کی سرگرمیوں کو توسیع دینے کا کام جاری رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحقیقات سے بچنے کیلئے بی جے پی کی مدد کی جائے گی۔ حالیہ عرصہ میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے بی آر ایس کے کئی عوامی نمائندوں اور قائدین کے خلاف بڑے پیمانے پر دھاوے کئے تھے لیکن دھاوؤں کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں دیکھی گئی جس کے سبب سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ کے سی آر نے تحقیقاتی ایجنسیوں کا راستہ روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ر