بی جے پی قائدین کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا انتباہ ، خوفزدہ نہ ہونے کا دعویٰ
حیدرآ باد ۔ 22 اگست ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے دہلی شراب اسکام میں شامل ہونے کی تردید کی اور کہا کہ چیف منسٹر کی بیٹی ہونے کی وجہ سے مجھے بدنام کرکے میرے والد کے سی آر کو پریشان کرنے کوشش کی جارہی ہے لیکن وہ ان الزامات سے ڈرنے گھبرانے والی نہیں ہے بلکہ ان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے والے بی جے پی قائدین کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا انتباہ دیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ملک بھر میں سیاسی انتقام کی کاروائیاں کی جارہی ہیں ، وہ اس سے ڈرنے گھبرانے والی نہیں ہے اور نہ ہی ٹی آر ایس بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیگی ۔ انہوں نے کہا کہ بلقیس بانو کے علاوہ دوسرے مسائل پر مرکزی حکومت کو عوام کے کھٹہرے میں گھسیٹنے کے سلسلہ کو جاری رکھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے بلقیس بانو اور ملازمتو ں کے مسئلہ پر مرکز سے سوال کیا ، اس کا جواب دینے کے بجائے بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے امیج کو داغدار بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس کی مستقبل میں بی جے پی کو قیمت چکانی پڑے گی ، جس پر غور کرنے کا کویتا نے تلنگانہ عوام کو مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی شراب اسکام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ صرف کے سی آر کی دختر ہونے کی وجہ سے انہیں بدنام کرنے اور چیف منسٹر کے سی آر کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ایسی دھمکیوں سے کے سی آر ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت کوئی بھی تحقیقات کرالیں ، عوامی مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ٹی آر ایس احتجاج کررہی ہے اور اس معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ڈرا جائے گا ۔ کویتا نے گمراہ کن الزامات سے خوفزدہ نہ ہونے کا دعویٰ کیا ۔ ن