شراب کی فروخت میں زبردست اضافہ 15 ہزار کروڑ کی آمدنی

   


11 ماہ کے دوران روزانہ 5.6 لاکھ لیٹر بیر اور 8.22 لاکھ لیٹر لیکر فروخت ہوئی
حیدرآباد :۔ ریاست تلنگانہ میں شراب کی ڈیمانڈ میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ سال یکم اپریل سے جاریہ سال 28 فروری تک ریاست میں 24,814 کروڑ روپئے کی شراب فروخت ہوئی ہے ۔ اس میں سے ویاٹ نکال دیں تو محکمہ اکسائز کو 15 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ کورونا وبا کی وجہ سے عوام کے ساتھ حکومت کی معاشی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ سال 2020-21 کے مالیاتی سال کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ یا اکسائز آمدنی توقع کے مطابق نہیں رہی ہے ۔ رواں مالیاتی سال محکمہ اکسائز سے 16 ہزار کروڑ روپئے آمدنی ہونے کی حکومت توقع کررہی تھی ۔ مالیاتی سال کے اختتام کے لیے مزید ایک ماہ باقی ہے ۔ اس سے قبل حکومت کو 15 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ مارچ میں ایک ہزار کروڑ سے زیادہ آمدنی ہوگی ۔ تاہم گذشتہ سال لاک ڈاؤن کے وقت 22 مارچ تا 6 مئی تک 46 دن شراب کی فروخت بند رہی ۔ اگر اس وقت بھی وائن شاپس اور بارس کھلے ہوتے تو مزید 2 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کی امید تھی ۔ گذشتہ 11 ماہ کے دوران شراب کی فروختگی کا جائزہ لیں تو ریاست میں روزانہ 5.6 لیٹر بیر 8.22 لاکھ لیکر عوام پی رہے ہیں ۔ ان 11 ماہ میں تین کروڑ سے زیادہ کیس لیکر اور 2.4 کروڑ کیس بیر فروخت ہوئی ہے ۔ ایک لیکر کیس میں 9 لیٹر شراب اور بیر کے کیس میں 7.8 لیٹر بیر ہوتی ہے ۔ اس حساب سے شراب پینے والے افراد گذشتہ 334 دن سے روزانہ لیکر اور بیر ملا کر یومیہ 14 لاکھ لیٹر پی رہے ہیں جاریہ سال جنوری میں ریاست میں 28 لاکھ کیس لیکر 33 لاکھ کیس بیر فروخت ہوئی جس کی مالیت 2,727 کروڑ روپئے ہے ۔۔