نئی دہلی 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم شرجیل امام کو 3 مارچ تک عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ شرجیل امام پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرتشدد احتجاج میں شامل ہونے اور اشتعال انگیز تقاریر کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ شرجیل امام کو ملک سے غداری کے الزام میں گزشتہ ماہ بہار کے جہان آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گرموہنا کور کے اجلاس میں چارج شیٹ پیش کی اور تشدد کے لئے اُکسانے کا الزام عائد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فٹیج، سیل فون کی تفصیلات اور بطور ثبوت 100 گواہوں کے بیانات بھی چارج شیٹ کے ساتھ پیش کئے گئے ہیں۔ پیر کو عدالت نے شرجیل امام کو ایک دن کے لئے پولیس تحویل میں دیا تھا جو 15 ڈسمبر کو سی اے اے کیخلاف احتجاج میں اس کے مبینہ اشتعال انگیز بیان سے متعلق پوچھ تاچھ کرنا چاہتی تھی کیوں کہ فرقان نامی نوجوان نے اپنے بیان میں مشتعل ہونے کی وجہ شرجیل امام کی تقریر بتائی تھی۔