شرعی قوانین میں رکاوٹوں پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جدوجہد جاری رکھے گا

   

بورڈ کا مقصد مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انصاف رسانی ، صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا خطاب
حیدرآباد۔8۔جون۔(سیاست نیوز) مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قیام ملک میں مسلم خواتین کے حقوق میں ہونے والی مداخلت اور ان کے ساتھ ناانصافیوںسے انہیں محفوظ رکھنے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا ۔ 1937 میں تقسیم وراثت کا مسئلہ درپیش ہوا جس میں انگریز عدالت نے مسلم خاتون کو حق میراث سے محروم کیا تھا اور اس کے بعد 1939 میں طلاق کا مسئلہ پیش آیا جس پر اکابر علماء نے شریعت محمدی ﷺ کے تحفظ اور ہندستانی مسلمانوں کو ان کے مذہبی قوانین پر عمل آوری میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کے لئے پیشرفت کی ۔ فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد المعہد العالیہ الاسلامیہ میں پہلے توسیعی خطبہ بعنوان ’’ مسلم پرسنل لاء اور مسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ ‘سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے خطاب کے دوران ملک کے پرآشوب حالات میں مسلم پرسنل لاء کے تحفظ اور مسلمانوں کے مسائل کے معاملہ میں انجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کے بعد سے بورڈ کے ذمہ داران اور اکابرین امت مسلمہ کے داخلی مسائل اور بیرونی حملوں سے نمٹنے کے لئے ممکنہ کوشش کرتے آئے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ مسلم پرسنل لاء کا نام دراصل یوروپ سے لیا گیا ہے اور ہندستان میں انگریز حکومت نے جب عدلیہ کے امور اپنے ہاتھ لئے تو اس وقت نظام عدلیہ میں ایک پنڈت اور ایک قاضی کی خدمات حاصل کی جانے لگی تھی تاکہ مذہبی فیصلوں میں ججس ان کی خدمات حاصل کریں۔اسی دور میں شرعی احکام کے انگریزی ترجمے کئے گئے تاکہ عدالت میں بطور حوالہ پیش کئے جاسکیں اور ان کو مسلم پرسنل لاء کا نام دیا گیا۔صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے خطاب کے دوران اپنی منکسر المزاجی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن اکابر نے صدر پرسنل لاء بورڈ کی یا جنرل سیکریٹری کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی ہے وہ بہت بڑے اور مدبر لوگ تھے ۔ انہو ںنے اس موقع پر ہندستان میں ملت اسلامیہ کو درپیش چیالنجس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں زیر دوراں مقدمات اور مسلمانوں کو شرعی قوانین پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کرنے جیسے امور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے اس پہلے توسیعی خطاب کے موقع پر صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان‘ مولانا ڈاکٹر سید متین الدین قادری‘مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی‘ جناب ضیاء الدین نیر‘ ڈاکٹر مشتاق احمد‘ مولانا راشدنسیم ندوی‘مولانا مفتی زبیر قاسمی‘ مولانا ارشد قاسمی ، جناب مظفر علی خان‘ مولانا حسین شہیدکے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ اس موقع پر علماء اکرام کے علاوہ اساتذہ المعہد العالیہ الاسلامیہ کی جانب سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ۔ مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی نے اس توسیعی خطبہ کے اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ شہر حیدرآباد کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اولین تشکیل کے اجلاس کے انعقاد کا اعزاز حاصل رہا ہے۔م