شرمیلا نے ملازمت کیلئے خود کشی کرلینے والے نوجوان کے ارکان خاندان کو پرسہ دیا

   

چیف منسٹر پر اپنے بچوں کو ملازمت فراہم کر کے 35 لاکھ نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا
حیدرآباد :۔ ریاست میں نئی سیاسی پارٹی تشکیل دینے میں مصروف وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے 7 سال مکمل ہونے کے باوجود ریاست میں ملازمتوں کے لیے ، خواتین کے تحفظ کے لیے ، دلتوں کی 13 ایکڑ اراضی کے لیے اور ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کے لیے مزید ایک اور تحریک چلانے کی ضرورت ہے ۔ ضلع میدک ویلدورتی منڈل میں واقع شریلا موضع کا آج صبح شرمیلا نے دورہ کرتے ہوئے اس نوجوان کے ارکان خاندان سے ملاقات کی ۔ جس نے ملازمت نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کرلی تھی ۔ شرمیلا نے وینکٹیش کے ارکان خاندان کو پرسہ دیا اور انہیں بھروسہ دلایا کہ وہ ان کا ساتھ دیں گی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرمیلا نے بتایا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے لیے کئی نوجوانوں اور طلبہ نے اپنی زندگیاں قربان کی ہے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے 7 سال مکمل ہونے پر بھی ملازمتیں فراہم نہ ہونے پر نوجوان خود کشی کررہے ہیں ۔ انہوں نے ملازمتوں کی فراہمی کے لیے فوری کیلنڈر کی اجرائی کا مطالبہ کیا اور 7 سال سے نوٹیفیکیشن کی عدم اجرائی کی حکومت ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ملازمتوں کے لیے 7 سال گریس کے طور پر قبول کرتے ہوئے ملازمتوں کے لیے 7 سال عمر میں توسیع دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست میں کتنی جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور حکومت کی جانب سے کتنی ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں ۔ اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ شرمیلا نے کہا کہ نوجوانوں کی خود کشی تلنگانہ تحریک کی بے عزتی کے مترادف ہے ۔ ریاست میں 35 لاکھ نوجوان ملازمتوں کا بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں ۔ حکومت نوٹیفیکشن جاری کرنے کے بجائے نوجوانوں کے موت کا انتظار کررہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے بچوں کو ملازمت فراہم کرلی ہے مگر تلنگانہ کی تحریک میں حصہ لینے والے غریب عوام کے بچوں کو نظر انداز کردیا ہے ۔۔