شرمیلا کی کانگریس میں شمولیت کے مسئلہ پر قائدین میں اختلافات

   

ریونت ریڈی گروپ انضمام کے حق میں نہیں، دیگر قائدین کو تلگو ریاستوں میں فائدہ کا یقین

حیدرآباد۔ 9 جولائی (سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس تلنگانہ کو کانگریس میں ضم کرنے سے متعلق اطلاعات میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں نئی سیاسی پارٹی کے قیام کے ذریعہ عوامی مسائل پر جدوجہد کا اعلان کرنے والی وائی ایس شرمیلا عوامی ردعمل سے مطمئن نہیں ہیں لہذا انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے کے سی آر حکومت کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائدین سے شرمیلا کی ابتدائی سطح کے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں تاہم ہائی کمان نے وائی ایس آر تلنگانہ کانگریس پارٹی کے انضمام کا مہورت طئے نہیں کیا ہے۔ اسی دوران وائی ایس شرمیلا کی کانگریس میں شمولیت کے مسئلہ پر پردیش کانگریس کمیٹی دو گروپ میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور ان کے حامی شرمیلا کی شمولیت یا انتخابی مفاہمت کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شرمیلا کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے لہذا جدوجہد کے ذریعہ علیحدہ ریاست حاصل کرنے والے عوام میں انہیں کوئی خاص تائید حاصل نہیں ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے نے شرمیلا کی کانگریس میں شمولیت کی تائید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھرا پردیش میں بھی کانگریس پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ وائی ایس شرمیلا نے مانک راؤ ٹھاکرے سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے انتخابات میں کانگریس کی تائید کا یقین دلایا۔ سابق مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے شرمیلا کی کانگریس میں شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں پارٹی کی کامیابی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر وی ہنمنت راؤ نے شرمیلا کی شمولیت کی تائید کی ہے۔ گزشتہ دنوں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو راہول گاندھی کی جانب سے خراج پیش کرنے کے بعد شرمیلا نے ٹوئٹر پر جس انداز میں جواب دیا اس سے وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے کانگریس میں انضمام کے امکانات مزید روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس میں شرمیلا کی مخالفت کرنے والے قائدین کا ماننا ہے کہ شمولیت کے بعد پارٹی میں ایک نیا پاور سنٹر قائم ہو جائے گا۔ شرمیلا چونکہ آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر ہیں لہذا سینئر قائدین کو یقین ہے کہ راج شیکھر ریڈی کی وراثت سے کانگریس پارٹی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ الغرض شرمیلا کی کانگریس میں شمولیت کا معاملہ کانگریس ہائی کمان کے پاس زیر غور ہے۔ ر