ملک میں 75 سال پہلے جیسے کشمکش کے حالات، لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا ثابت ہونے کا خطرہ، 2024 کے انتخابات نہایت اہمیت کا حامل
ll رائے دہی میں صد فیصد حصہ لیں، سیکولر فورسیس کا ساتھ دیں
ll مسلمانوں سے اپیل، ظہیر آباد میں اجلاس، مختلف شخصیتوں کا خطاب
ظہیرآباد۔ 7 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) لوک سبھا انتخابات 2024 ملک کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ووٹ ہمارے مستقبل کا ضامن ہے۔ دیش، دستور، تحفظات، شریعت کو بچانے میں معاون و مددگار تھوڑی سی بھی غفلت اور لاپرواہی ’’لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا‘‘ ثابت ہوگی۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے ظہیرآباد کے اسلامک سنٹر میں منعقدہ ووٹ کی اہمیت پر شعور بیداری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صدرنشین ریاستی وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ یہ لوک سبھا کے انتخابات اب تک کے الیکشن سے کافی الگ ہیں۔ اب دیش، دستور، تحفظات، شریعت، ہمارے بچوں کا مستقبل سب کچھ داؤ پر ہے۔ ہمارے سامنے دو طاقتیں ہیں ایک طاقت مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے آگ لگا رہی ہے دوسری طرف پیار، محبت، اتحاد کا نعرہ دیتے ہوئے آگ بجھارہی ہے۔ ضروری ہیکہ آگ بجھانے والوں کی تائید اور ناپاک عزائم رکھنے والوں کو ختم کیا جائے۔ 75 سال پہلے ملک میں جو کشمکش کے حالات تھے اب بھی وہی حالات ہمارے سامنے ہیں۔ مسلمانوں کی حب الوطنی شکوک سے بالاتر ہے۔ مگر ملک میں فی الحال مسلمانوں کو پنچنگ بیاگ بنا دیا ہے۔ ہماری شریعت سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش حجاب پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ مسلم تحفظات ختم کردینے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ کپڑے پہننے، کھانے پینے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ NRC اور CAA کے نام پر ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ مسلمان سیاسی طور پر بی جے پی کی غذا بن گئے ہیں۔ جناب عامر علی خان نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو جائیں اور اپنی صد فیصد رائے دہی کرائے۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کو بھی اپنے اتحاد میں شامل کریں جس کے بعد تینوں طبقات کا ووٹنگ تناسب 45 فیصد ہو جائے گا جو ملک میں بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔ ووٹ ہمارے اس مرتبہ بہت زیادہ اہم ہونے کی کئی وجوہات ہیں جس میں پہلے تو فرقہ پرستوں کو شکست دینا ہے، دوسرا 2026 میں لوک سبھا حلقوں کی از سر نو حد بندی ہوگی، آسام میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی میں مسلمانوں کی سیاسی اہمیت کو گھٹادیا۔ تلنگانہ میں اسمبلی حلقہ ظہیرآباد بھی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ گاندھی خاندان سیکولر خاندان ہے، سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی فرقہ پرستوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ انہیں یقین ہے کہ اب جو وزیر اعظم ہے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ نہیں رہے گا۔ اس کرسی پر نیا چہرہ وزیر اعظم بن کر بیٹھے گا۔ صدر نشین ریاستی وقف بورڈ نے روزنامہ سیاست بالخصوص نیوز ایڈیٹر عامر علی خان سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ روزنامہ سیاست ریاست کے مختلف مقامات پر ووٹ کی اہمیت پر شعور بیداری پروگرامس کا اہتمام کررہا ہے اور عامر علی خان ریاست کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں میں شعور بیداری کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اب تک انتخابات کسی ایک پارٹی کو جتانے یا کسی قائد کو وزیر اعظم بنانے یا سیاسی طور پر مستحکم ہونے کے لئے ہوئے ہیں لیکن موجودہ لوک سبھا 2024 کے انتخابات دیش اور دستور کو بچانے کے لئے ہو رہے ہیں۔ پہلے آزادی کی جنگ لڑی گئی تھی اب ملک کو بچانے کے لئے جنگ لڑی جارہی ہے۔ فرقہ پرستوں نے ملک کے اتحاد و سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک میں اقلیتیں بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں۔ اس موقف کو ختم کرنے کے لئے خطرناک سازشیں کی جارہی ہیں۔ اگر مسلمان 13 مئی کو کوتاہی سے کام لیتے ہیں تو ملک کا دستور، جمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہمیں سیکولر فروسیس کا ساتھ دینا چاہئے۔ تھوڑی سی بھی غفلت کی گئی تو ہماری نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ امیر مقامی جماعت اسلامی ظہیرآباد سید ضیا الدین خطیب و امام عیدگاہ نے ووٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ذاتی معاملات کو دور رکھتے ہوئے امن و امان اور قومی بھلائی کے لئے ووٹ دیں، لالچ کا شکار ہوئے بغیر دانشمندی کامظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ سیف الدین غوری سیف صدر ہری مسجد گڑھی نے حق رائے دہی کے لئے شعور بیداری کے پروگرام کو وقت کا اہم تقاضہ قرار دیا۔ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے والوں کو ووٹ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ شفیع الدین ایڈوکیٹ نے راہول گاندھی کو جمہوریت کا ہیرو قرار دیا۔ صدر ویلفیر پارٹی یاسر پٹیل نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں عوام کانگریس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مولانا سید سیف اللہ قادری خطیب و امام مسجد موسیٰ کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ محمد حامد علی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ نمائندہ سیاست محمد وسیم غوری اور محمد طیب علی نے اظہار تشکر کیا۔
