جالنہ میں تحفظ شریعت کے اجلاس کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر
جالنہ: آج جالنہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سرپرستی میں نیز دارالقضاء و امارت شرعیہ جالنہ کے زیر اہتمام علماء کرام، دانشوران و خواتین کی خصوصی نشست اور شام کا اجلاس عام کامیاب منعقد ہوا،
صبح کی خصوصی نشست میں حمزہ مسجد نریمان نگر میں علماء، دانشوران ملت اور خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی،
شام میں اجلاس عام بعد نماز مغرب شہر کی بڑی و خوبصورت حضرت بلال مسجدمیں منعقد ہوا,
حضرت مفتی محمد معز الدین قاسمی امیر شریعت مرہٹواڑہ نے مسلم معاشرے میں جو دینی و دعوتی اعتبار سے غفلت اور تساہل ہورہاہے اسے سم قاتل قرار دیا، اور کہا کہ ہمیں اسلامی شعور کے ساتھ اس ملک میں زندگی گذارنی ہوگی،
مہمان فاضل مقرر مولانا جمال عارف ندوی مالیگاؤں نے ملک کی بدلتی حالت کی جامع تصویرکشی کی اور ان بدلتے حالات میں بحثیت عالم و باشعور افراد کی مذہبی اعتبار سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی طرف اشارہ کیا،
مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی حیدرآباد نے بھی کہا کہ اب تک ہم سے جو ہوا سو ہوا اب جاگنا ہوگا اور تحفظ شریعت کے فریضے کو اس ملک میں انجام دینے کی اشد ضرورت ہے، آپ نے اصلاح معاشرہ کے قرآنی چھ نکات پیش کیئے، “ان اللہ یامر بالعدل والأحکام الخ اور ان نکات پر کی جامع و دلنشین تقریر کی،
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس دور میں علماء کرام، ائمہ کرام اور ملت دانشور طبقہ کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دینی و ایمانی ذمہ داریوں کو سمجھیں، جہاں تک مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مسئلہ ہے
بورڈ اپنے قیام سے تا حال تحفظ شریعت کے لیے کوشاں ہے، اور ہر اس سازش کا مقابلہ کرتا آرہا ہے، جس کا مقصد شریعت میں تبدیلی یا تنسیخ ہو ، اس حوالے سے بورڈ کی خدمات روز روشن کی طرح واضح ہیں، بورڈ نے جہاں سیاسی وقانونی سطح پر شریعت کے تحفظ کا سامان فراہم کیا اور شریعت پر ہونے والے ہر حملے کا دفاع کیا، وہیں داخلی سطح پر اس بات کی کوشش کی کہ خود مسلمان شریعت کی بھر پور پابندی کریں، اس کی لیے اصلاح معاشرہ مہم ،تفہیم شریعت مہم اور تحفظ شریعت مہم کے نام سے بورڈ نے مسلسل اصلاحی سرگرمیاں جاری رکھیں، اور یہ حقیقت ہے کہ شریعت پر ہونے والے بیرونی حملے اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب اندرون مسلم معاشروں میں خود مسلمان شریعت پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں، سپریم کورٹ یا دیگر فسطائی طاقتوں کو شریعت میں تبدیلی کے مطالبہ کا موقع اسی وقت ملتا ہے جب خود مسلمان اپنے نزاعات کو قرآن وشریعت کی روشنی میں حل کرنے اور قرآن وشریعت کا فیصلہ قبول کرنے کے بجائے عدالتوں میں لے جاتے ہیں، حالیہ طلاق، حجاب حلالہ وغیرہ کے مسئلے بھی مسلمانوں کے غیر شرعی طرز عمل کے سبب پیدا ہوئے، چند خواتین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دینے کی جو درخواست کی ہے اس کا اصل محرک ان کے شوہروں کا غیر شرعی طرز عمل تھا، کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس وقت عام مسلمان طلاق کا مطلب تین طلاق ہی سمجھتا ہے، بیشتر مسلمانوں کا خیال ہے کہ جب تک طلاق طلاق طلاق تین مرتبہ نہ کہا جائے طلاق پڑتی ہی نہیں، کیا یہ واقعہ نہیں کہ عائلی مسائل ونزاعات میں اکثر مسلمان اسلامی دارالقضاؤں سے رجوع ہونے کے بجائے عدالتوں کے چکر کاٹتے ہیں،ذرا پولیس اسٹیشنوں کا جائزہ لیجئے، ہر جگہ برقع پوش خواتین کی بھیڑ نظر آئے گی، جب دو مسلمانوں کے درمیان آپس میں نزاع پیدا ہوجائے یا میاں بیوی میں ناچاقی ہو تو کیا وہ دونوں اسلامی شریعت کے مطابق اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے پابند نہیں ہیں؟ کیا مسلمانوں کا ہر معاملہ قرآن وسنت سے جڑا ہوا نہیں ہے؟ کیا ہم نے قرآن مجید کی وہ آیت نہیں پڑھی جس میں صاف الفاظ میں کہا گیا کہ مسلمان اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے معاملات میں نبیﷺ کو حکم نہ بنائیں، اور آپ کے فیصلے کو دل سے قبول نہ کریں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات قسم کھا کر نہیں فرمائی؟ کیا قرآن میں خدا کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ کرنے والوں کو کافر ، ظالم اور فاسق نہیں کہا گیا ؟ کیا نبی کا یہ ارشادہم نے نہیں سنا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش اس دین وشریعت کے تابع نہ ہوجائے، جسے میں لیکر آیا ہوں۔(لا یؤمن أحدکم حتی یکون ہواہ تبعا لما جئت بہ)
ان سارے حقائق کے باوجود ہماری شریعت سے رو گردانی اور دشمنوں کی جانب سے شریعت میں مداخلت پر واویلا مچانا کہیں ہمارے مناقفانہ کردار کی نشاندہی تو نہیں کررہا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ شریعت کو دوسروں سے کہیں زیادہ اپنوں سے خطرہ ہے، خود مسلمانوں نے شریعت کو کنارے لگا دیا ہے، مسلمان خود آمادہ نہیں کہ ان کے نزاعات میں شریعت کا عمل دخل ہو،اس سے قبل نشست کے آغاز مفتی سید عذیر حسینی ندوی و حافظ محمد سلیم کی تلاوت قرآن اور حافظ محمد اعزاز کی نعت پاک سے ہوا، مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندوی نقیب امارت شرعیہ نے تحفظ شریعت کے اجلاس کے انعقاد اس کی ضرورت اور ان کے مفید نتائج و مثبت اثرات پر اپنے افتتاحی کلمات میں روشنی ڈالی،
جبکہ مفتی محمد فہیم نے نظامت کے فرائض بہترین انداز میں انجام دیئے،
دونوں نشستوں میں علماء، اور عمائدین نے باوجود بارش کے ذوق و شوق سے بڑی تعداد میں شرکت کی، حمزہ مسجد و بلال مسجد شرکاء کی بھیڑ کی وجہ اپنی تنگ دامانی کی شکایت کررہی تھی، دیگر مہمانانِ عظام میں مولانا محفوظ الرحمن فاروقی اورنگ آباد، مولانا عبد الرشید ندوی مدنی نائب امیر شریعت مرہٹواڑہ، مولانا صدرالحسن ندوی مدنی، مولانا اجلال، مولانا قاری محمد اقبال سکندر ناظم مدرسہ ابوبکر صدیق عنبڑ، مولانا محمد رفیق قاسمی، منٹھا، قاری محمد طیب رنجنی، مولانا محمد ہارون اشاعتی ناظم مدرسہ فلاح دارین بھوکردن، محمد عمران خان ندوی بھوکردن، محمد ایوب خان مدرسہ روضۃ العلوم پرتور،مولانا رحمت اللہ خان ناظم دارالعلوم حسینیہ گھن ساؤنگی، مفتی محمد اشاعتی رنجنی، مفتی محمد احسان مظاہری، مولانا صادق مظاہری عنبڑ، مولانا غلام احمد ندوی، و دیگر علماء کرام نے مقامی و اطراف و اکناف سے زیادہ تعداد میں شرکت کی،
ان دونوں پروگرام کو بہتر انداز میں پیش کرنے پر لوگوں نے دارالقضاء و امارت شرعیہ جالنہ کی تعریف کی،
تحفظ شریعت کے اجلاس کو کامیاب کرنے میں انتظامی کمیٹی کے کارکنان مفتی عبد الرحمن نائے گاوی قاضی شریعت جالنہ، مولانا سید نصراللہ حسینی سہیل ندوی نقیب امارت شرعیہ جالنہ، مولانا حبیب کاشفی، فیض العلوم،مولانا رئیس ملی، صدر صفا بیت المال،مفتی محمد فہیم جمعیت علماء، مولانا محمد عیسیٰ خان کاشفی، جمعیت علماء،اقبال پاشاہ بزرگ قائد، سید شاکر سر جماعت اسلامی ہند، محمد ایوب خان جنرل سیکرٹری جمعیت علماء،وسماجی کارکن، حاجی احمد بن سعید چاؤش بائیجام صدر حمزہ مسجد، مرزا شاہد بیگ مدرسہ فیض العلوم، عرفان کیپٹن چیرمین حضرت خواجہ غریب نواز فاؤنڈیشن، عبد الوحید صدر ھدی اردو ہائی اسکول جالنہ، عبد الحمید سماجی کارکن محمد عمران خان شیرخان رہنمائے حج کمیٹی نے قابل ذکر محنت و جد وجہد کی۔


🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ