مملا پورم۔ کچھ اعلی ٹیموں کی غیر موجودگی میں ہندوستان جمعرات سے یہاں شروع ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں خطاب کے دعویدار کے طور پر ایونٹ شروع کرے گا۔شطرنج کی ٹاپ ٹیمیں روس اور چین اس بار شطرنج اولمپیاڈ میں حصہ نہیں لے رہی ہیں لہذا ہندوستان اوپن اور خواتین کے زمرے میں تین ٹیموں کو میدان میں اتارے گا۔ شطرنج کا بخار یہاں اپنے عروج پر ہے اور تمام نظریں ہندوستانی ٹیموں پر لگی ہوئی ہیں۔ پانچ بارکے عالمی چمپئن اور تجربہ کار کھلاڑی وشواناتھن آنند نے اولمپیاڈ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بار وہ ہندوستانی ٹیموں کے مشیرکے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہندوستانی ٹیم یقیناً ان کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہے گی۔ہندوستان اے ٹیم کو ستاروں سے بھرے امریکہ کے بعد دوسرا درجہ دیاگیا ہے۔ وہ میگنس کارلسن کی قیادت میں ناروے، امریکہ اور آذربائیجان کے ساتھ خطاب کے دعویداروں میں شامل ہیں۔انڈیا بی ٹیم نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس کے کوچ آر بی رمیش ہیں۔ ہندوستان کو بھی ٹیم میں11 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور اسے انڈرڈاگ سمجھا جا رہا ہے۔شطرنج اولمپیاڈ میں اس بار اوپن کیٹیگری میں ریکارڈ 188 ٹیمیں اور خواتین کی زمرے میں 162 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ان میں ہندوستان کی چھ ٹیمیں شامل ہیں۔ میزبان ہونے کے ناطے ہندوستان کو اضافی ٹیمیں اتارنے کا موقع ملا۔روس اور چین کی عدم موجودگی نے میچ کو قدرے آسان بنا دیا ہے لیکن اس سے دوسری ٹیموں کو چمکنے کا موقع ملے گا۔