حماس کو تقریباً ایک درجن یرغمالیوں کو بہرحال رہا کرنا ہوگا، اوقات کا اعلان تین گھنٹے قبل کیا جائیگا
غزہ پٹی: اسرائیل غزہ پٹی کے شمالی حصے میں ہر روز چار گھنٹے کا فوجی وقفہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ادھر قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان سے غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری زمینی اور فضائی کارروائیوں میں پہلی بار غزہ پٹی کے شمالی حصے میں ہر روز چار گھنٹے کا فوجی وقفہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ یہ اعلان 9 نومبر کی شام واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے کیا گیا۔روزانہ چار چار گھنٹوں کے ان فوجی وقفوں کا مقصد غزہ کی شہری آبادی کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ شمالی غزہ سے جنوبی غزہ کی طرف جاسکے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا، ’’شمالی غزہ میں یہ فوجی وقفے روزانہ چار چار گھنٹوں کے لیے کیے جائیں گے اور ان کے اوقات کا اعلان ان کے آغاز سے تین گھنٹے قبل کیا جایا کرے گا۔متحدہ عرب امارات میں دبئی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل اور حماس کے مابین اسی جنگ، غزہ پٹی کی صورت حال اور اس سے پیدا شدہ بحران کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آج متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔اس دورے کے دوران قطر کے امیر نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے ساتھ بات چیت میں اس حوالے سے مشورے کیے کہ غزہ کی موجودہ صورت حال میں جلد از جلد بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔اس ملاقات کی اطلاع قطر کے امیری دیوان کی طرف سے جمعرات کی شام جاری کردہ ایک بیان میں دی گئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوٹیرش کے مطابق غزہ میں شہری ہلاکتوں کی بہت زیادہ تعداد کا مطلب یہ ہے کہ اس فلسطینی علاقے میں اسرائیل کے عسکریت پسند گروپ حماس کے خلاف فوجی آپریشن میں بنیادی طور پر کچھ نہ کچھ ’بہت غلط‘ ہے۔انٹونیو گوٹیرش نے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ پٹی میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اسرائیل کے مسلسل فضائی اور زمینی حملوں میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد انتہائی پریشان کن حد تک زیادہ ہے۔عالمی ادارے کے سربراہ نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں اس وقت نظر آنے والی انتہائی حد تک بحرانی اور وسیع تر نقل مکانی سے عبارت ‘تباہ کن‘ انسانی صورت حال کی جو فوٹیجز سامنے آئی ہیں، وہ حماس کے خلاف اسرائیل کے اس فوجی آپریشن سے متعلق بین الاقوامی رائے عامہ میں تنزلی کا باعث بنی ہیں۔اسرائیل اور حماس کی جنگ میں یرغمالیوں کی جزوی رہائی اور لڑائی میں مختصر فائر بندی کے لیے ابھی تک سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ قطر میں دوحہ اور مصر میں قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ثالثی کرنے والی طاقتیں اسرائیل اور حماس کو ایسے کسی ممکنہ اتفاق رائے تک لانے کی پوری کوشش میں ہیں۔یہ بات اس سلسلے میں مذاکرات اور ان کی تازہ صورت حال سے باخبر ذرائع نے جمعرات کے روز جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتائی۔
یورپی یونین، امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ابھی تک ان 240 یرغمالیوں کو غزہ میں اپنی قید میں رکھا ہوا ہے، جنہیں اس کے جنگجوؤں نے سات اکتوبر کے دہشت گردانہ حملے کے دوران اسرائیل سے اغو اکیا تھا۔ اس حملے میں چودہ سو سے زائد اسرائیلی مارے گئے تھے۔اس تناظر میں علاقائی ثالثی طاقتیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ پٹی میں اڑتالیس گھنٹوں سے لے کر بہتر گھنٹوں تک کی ایک ایسی فائر بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے لیے حماس کو اپنے زیر قبضہ یرغمالیوں میں سے تقریباً ایک درجن کو رہا کرنا ہو گا۔ پیرس میں 9 نومبر سے ایک ایسا بین الاقوامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں اسرائیل اور حماس کی موجودہ جنگ کے دوران غزہ پٹی کی بحران زدہ شہری آبادی کی مدد کے لیے ممکنہ امکانات اور طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔