شمالی کوریا: راکٹ لانچ کرنے کی سہولیات میں توسیع کا فیصلہ

   

پیانگ یانگ : شمالی کوریا کے حکمراں نے ملک میں خلائی
راکٹ لانچ کرنے کے مقام میں توسیع کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ امریکہ نے پیونگ یانگ کی جانب سے ایک نئے بین البراعظمی بیلیسٹک میزائل سسٹم کے تجربہ کا پتہ لگایا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا کی اطلاعات کے مطابق 11 مارچ جمعہ کے روز ملک کے رہنما کم جونگ ان نے اپنے عہدیداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ مختلف قسم کے راکٹ لانچ کرنے کے لیے ملک کی سیٹلائٹ لانچ سسٹمز کو مزید وسیع کریں۔شمالی کوریا کے رہنما نے یہ احکامات ایک ایسے وقت دیے ہیں جب امریکہ نے پیانگ یانگ کی جانب سے ایک نئے بین البراعظمی بیلیسٹک میزائل سسٹم کے تجربے کا پتہ لگایا ہیہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے نے بتایا ہے کہ کم جونگ ان نے سوہائے سیٹیلائٹ لانچنگ گراؤنڈ کے دورے کے دوران اس کی توسیع کا حکم دیا۔ اس مقام کو ماضی میں سیٹیلائٹ کو مدار میں بھیجنے اور میزائل سے متعلق مختلف طرح کی ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔اس جگہ پر اسٹیٹک راکٹ انجن اور خلائی لانچ سے متعلق گاڑیوں کا پہلے ہی تجربہ کیا جا چکا ہے۔ کے سی این اے کے مطابق کم جانگ ان نے اپنے افسران سے کہا کہ وہ اس مقام کو، توسیعی بنیادوں پر جدید تر بنائیں تاکہ کثیر المقاصد سیٹیلائٹ لے جانے کے لیے مختلف طرح کے راکٹ کا تجربہ کیا جا سکے۔سرکاری میڈیا کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے، ”اس بات پر زور دیا کہ یہ ہماری پارٹی اور ہمارے عہد میں خلائی سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کا عظیم فرض ہے کہ وہ لانچنگ گراؤنڈ کو، جو کہ ہماری ریاست کے عظیم خواب اور خلائی طاقت کے عزائم سے وابستہ ہے، کو ایک الٹرا ماڈرن ایڈوانس بیس میں تبدیل کریں۔”