شمالی کوریا کا جاپانی حکام کے فوجی یادگار کے دورہ کیخلاف احتجاج

   

سیئول : جنوبی کوریا نے جاپانی عسکریت پسندی کے دور سے جڑے یاسوکونی یادگار کے جاپانی حکام کے دورے پر جاپان سے احتجاج درج کرایا ہے ۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ یاسوکونی وہ جگہ ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے جنگی مجرموں سمیت جاپان کا دفاع کرتے ہوئے مرنے والوں کو یاد کیا جاتا ہے ۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ “جنوبی کوریا کی حکومت اس حقیقت پر گہری مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ سینئر جاپانی حکام ایک بار یادگار کے لئے تحفے بھیج رہے ہیں اور یاسوکونی یادگار کا دورہ کر رہے ہیں، جو کہ جاپان کی ماضی کی فوجی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے “۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے جاپانی حکام سے ‘تاریخ کی موجودہ اہمیت کو سمجھنے ‘ اور اپنے اعمال کے ذریعے جاپان کے ماضی پر ‘ایماندارانہ اور شائستہ عکاسی’ کا مظاہرہ کرنے کے لیے سیول کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس سے پہلے دن میں جاپانی میڈیا نے اطلاع دی کہ وزیر اعظم فومیو کشیدا نے یاسوکونی کے یادگار کا دورہ کیا تھا اور جاپان کے علاقائی بحالی کے وزیر یوشیتاکا شنڈو نے ذاتی طور پر یادگار کا دورہ کیا تھا۔ جاپان کے وزرائے اعظم نے 2013 سے اس یادگار کا دورہ کرنے سے گریز کیا ہے ۔ مسٹر شنزو آبے جاپان کے آخری وزیر اعظم تھے جنہوں نے ذاتی طور پر اس یادگار کا دورہ کیا، کیونکہ دسمبر 2013 میں ان کا دورہ چین اور جنوبی کوریا کی طرف سے سخت منفی ردعمل کا باعث بنا۔ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ جاپان کے وزرائے اعظم نے تب سے یادگار کے لئے صرف تحفہ بھیجا ہے ۔