شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہونے کا اعلان

   

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن نے باضابطہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست ہونے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے خود کو جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست قرار دیتے ہوئے ایک قانون پاس کیا ہے جس میں ملک کے رہنما اور جوہری تخفیف پر کسی بھی بات چیت کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔یہ قانون ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کو پیشگی جوہری حملے کا حق بھی دیتا ہے۔شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن نے قانون کو ناقابل واپسی قرار دیکر کر عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے تمام دروازے بند کرلیے ہیں۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا نے 2006 سے 2017 کے درمیان 6 جوہری تجربات کیے ہیں۔شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2019 میں بات چیت کا آغاز کیا تھا اور اس دوران ایک دوسرے کے سخت حریف جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے صدور نے بھی پہلی بار ملاقات کی تھی۔ڈونالڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقاتیں بے ثمر ثابت ہوئی تھیں اور شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھی۔سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا کی پارلیمنٹ، سپریم پیپلز اسمبلی نے جمعرات کو 2013 کے قانون میں ترمیم کا بل منظور کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک نیا قانون بنایا ہے۔ کم نے پارلیمنٹ میں ایک تقریر میں کہا کہ “جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کو قانون بنانے کی سب سے زیادہ اہمیت ایک ناقابل واپسی لکیر کو کھینچنا ہے تاکہ ہمارے جوہری ہتھیاروں پر 100 سال تک پابندی عائد کر بھی دی جائے تو بھی ہم اپنے پروگرام کو نہیں روکیں گے ۔