پیانگ یانگ : شمالی کوریا نے روس کو اسلحہ کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ امریکہ کے نشریاتی ادارے سی بی ایس نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایک امریکی بااثر شخصیت کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اْن اور روس کے صدر ولادی میر پوتن کے درمیان اسلحہ کی فراہمی اور عسکری تعاون کے موضوع پر مبنی مذاکرات کے بعد پیانگ یانگ انتظامیہ نے ماسکو کو اسلحہ بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ خبر میں کئے گئے دعوے میں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ شمالی کوریا اسلحہ کی فراہمی کے بدلے میں روس سے کیا حاصل کر رہا ہے۔ اسلحہ کی یہ فراہمی کسی طویل المدت رسدی زنجیر کا حصہ ہے یا پھر کوئی محدود ترسیل ہے۔ واضح رہے کہ صدر کِم نے 13 ستمبر کو روس کے علاقہ آمور میں وسٹونچنی کی خلائی بیس پر صدر پوتن کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے ملاقات میں کِم اور پوتن کے درمیان اسلحہ کی ترسیل اور عسکری تعاون کے موضوعات پر مذاکرات کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا تھا۔