شمالی ہند کی جیلوں میں بند 10 تا 12 گینگسٹروں کوانڈومان جیل بھیجنے کی تیاری

   

نئی دہلی: شمالی ہندوستان کی جیلوں میں بند 10 سے 12 گینگسٹر کو انڈومان اور نکوبار جیل منتقل کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ درحقیقت ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں دہلی کے ساتھ پنجاب اور ہریانہ کی جیلوں میں قید ان مجرموں کو انڈمان جیل بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، این آئی اے گینگسٹروں کو آسام کی ڈبروگڑھ سنٹرل جیل میں منتقل کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے، جہاں ’وارث پنجاب دے‘ کے سربراہ امرت پال سنگھ اور ان کے ساتھی اس وقت بند ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں گینگ وار اور جیل کے اندر بدمعاشوں پر حملے کے بعد این آئی اے اس قدم پر غور کر رہی ہے۔ اسی لیے ایجنسی نے بدنام زمانہ گینگسٹر کو شفٹ کرنے کے لیے مرکز کو خط لکھا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تجویز گینگسٹروں کو جنوبی ہندوستان کی جیلوں میں منتقل کرنے کی تھی، لیکن یہ ایک طویل عمل ہوگا کیونکہ ریاستی حکومتوں سے اجازت لینی ہوگی۔ ذریعہ نے کہا، ’’چونکہ انڈمان اور نکوبار جزائر ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے، اور اس کی انتظامیہ وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے، اس عمل میں کم وقت لگے گا۔ ایجنسی فی الحال قانونی رائے بھی طلب کر رہی ہے۔اس سے قبل، وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں، این آئی اے نے شمالی ہندوستان کی جیلوں سے کم از کم 25 گینگیسٹروں کو جنوبی ریاستوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پنجابی گلوکار سدھو موسی والا کے قتل کے مرکزی ملزم لارنس بشنوئی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ حالیہ عرصہ میں تہاڑ جیل میں محروس دو قیدیوں کو جیل کے اندر ہی ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس صورتحال کے بعد جیل حکام کو بھی جیل کے اندر گینگسٹرس کو سیکوریٹی فراہم کرنے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔