حیدرآباد ۔ 16 اکٹوبر (سیاست نیوز) ملک کے باقی مقامات کے برعکس شہر حیدرآباد میں رہائشی مکانات کی فروخت میں ہوئے زبردست اضافہ سے نہ صرف رئیلٹرس بلکہ حکومت بھی حیرت میں پڑ گئی۔ دوسرے شہروں میں 100 فیصد سے زیادہ فروخت ریکارڈ کی گئی جبکہ حیدرآباد میں گذشتہ سہ ماہی میں مکانات کی فروخت میں 300 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیلس میں اس قدر اضافہ کے باوجود کئی یونٹس اب بھی دستیاب ہیں۔ پری۔ سیلس کے دوران فلیٹس، ہاٹ کیکس کی طرح فروخت ہورہے ہیں جبکہ اصل سیلس سست روی کا شکار ہیں۔ شہر میں کئی بڑے بلڈرس ہیں جن کے یہاں تمام دستاویزات ہونے کے باوجود فلیٹس خالی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جائیداد خریدنے کے شمالی ہند کے طرز کا اثر ہے۔ سی شیکھر ریڈی، چیرمین سی آئی ٹی آئی، انڈین گرین بلڈنگ کونسل، حیدرآباد نے کہا کہ ’’شمالی ہند کا یہ کلچر یہاں حال میں آیا ہے۔ کئی فلیٹس یو ڈی ایس سیلس میں فروخت ہوتے ہیں لیکن جب حقیقی فروخت شروع ہوتی ہے تو فلیٹس فروخت نہیں ہوتے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس پیسے ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فلیٹس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس سے انہیں زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمرس اس بات پر دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ فلیٹ کب دیا جائے گا اور یہ بات ریگولر ڈیولپرس کو نقصان پہنچارہی ہے۔ شیکھر ریڈی نے کہا کہ یہ مسئلہ گذشتہ دو سال میں سامنے آیا۔ بلڈرس قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اگر کوئی ارزاں قیمت پر فروخت کررہا ہو تو وہ فلیٹ کو کس طرح تعمیر کئے ہیں یہ سوال پیدا ہوگا۔ ارزاں قیمت پر فروخت کرنا انڈسٹری کیلئے اچھا نہیں ہے۔ مارکٹ میں نئے آنے والے تعمیراتی اخراجات کے اتار چڑھاؤ سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔ جنوبی ہند میں اس طرح کے مسائل کبھی نہیں تھے لیکن یہ گذشتہ دو تین سال میں شروع ہوئے ہیں۔ رئیلٹرس کا کہنا ہیکہ امکنہ قرض پر شرح سود میں بھی کمی کی گئی ہے اور لوگ کم سے کم قیمت میں ممکنہ بہترین مکان حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس میں ڈیلیوری تاریخ کو ملحوظ نہیں رکھا جارہا ہے۔ CREDAI کے نائب صدر رام ریڈی نے کہا کہ ’’ رئیلٹرس تشویش میں ہیں کیونکہ یو ڈی ایس پری سیلس سے مارکٹ پر منفی اثرات ہورہے ہیں۔ مین سیلس، پری۔ سیلس جیسے ہاٹ نہیں ہیں جہاں ہر کوئی زمین میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اس سے زمین کی قمت میں اضافہ ہورہا ہے۔ سرمایہ کار تجربہ کے بغیر بروکرس کے ذریعہ ڈیولپرس کے پاس پہنچ رہے ہیں اور بروکرس 6 فیصد کمیشن لے رہے ہیں جو صرف 2 تا 3 فیصد ہوا کرتا تھا۔