مرکزی حکومت کا منصوبہ ، کابینی نوٹ بھی روانہ ، بھاری رقومات جمع کرنے کی مہم
حیدرآباد۔21 ستمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے محکمہ فینانس کی جانب سے اعلان کی گئی قومی اثاثہ جات کو مونٹائیز کرنے کی پالیسی کے تحت شمس آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے علاوہ بنگلو رو ائیر پورٹ میں موجود ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کے حصہ سے دستبرداری اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس نئے منصوبہ کے تحت جو دولت اکٹھا کرنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا تھا اس کا اثر سب سے پہلے حیدرآباد اور بنگلورو پر دیکھا جائے گا کیونکہ ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیانے کابینی نوٹ روانہ کرتے ہوئے مشترکہ پراجکٹ کے طور پر تعمیر کئے گئے حیدرآباد اور بنگلورو ائیر پورٹ میں موجود اپنے حصہ سے دستبرداری اختیار کرنے کے منصوبہ سے واقف کروایا گیا ہے۔ ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق ابتداء میں حیدرآباد اور بنگلورو ائیر پورٹ میں موجود حصہ سے دستبرداری اختیار کی جائے گی۔حیدرآباد اور بنگلورو ائیر پورٹ میں ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کے حصص کے سلسلہ میں تفصیلات کے مطابق ان دونوں ائیر پورٹ میں اتھاریٹی کا حصہ 13 فیصدہے جبکہ دہلی اور ممبئی کے ائیر پورٹس میں ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کا حصہ 26 فیصد ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے پیش نظر ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ کابینی نوٹ روانہ کرتے ہوئے اتھاریٹی نے اپنے حصہ سے دستبرداری کو منظوری دینے کی خواہش کی ہے اورکابینہ کی جانب سے ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کو اپنے حصہ سے دستبرداری اختیار کرنے یا اسے کمپنی کے حوالہ کرنے کو منظوری دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں حیدرآباد اور بنگلورو ائیر پورٹ میں کوئی سرکاری حصہ باقی نہیں رہ جائے گا ۔ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے ان بڑے شہروں کے ائیر پورٹس کے علاوہ ملک کے چھوٹے شہروں کے ان ائیر پورٹس کے متعلق بھی منصوبہ سازی کی جا رہی ہیں جنہیں خانگی عوامی شراکت داری کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے اور اب اگر ان میں سے حکومت اپنے حصہ کو ائیر پورٹ چلانے والی کمپنی کو فروخت کرتی ہے یا اس کے حوالہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت کو فوری طور پر آمدنی حاصل ہوگی لیکن ان ائیر پورٹس میں حکومتوں کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے آئندہ کابینہ کے اجلاس کے دوران حیدرآباد و بنگلوروں ائیر پورٹس کے حصہ کے علاوہ دیگر امور کے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے گا اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ملک بھر میں خانگی عوامی شراکت داری کے تحت تعمیر کئے گئے ائیر پورٹس کو مونٹائز کرنے پر مرکزی حکومت کو کتنی آمدنی حاصل ہوگی اور اس کے بعد ہی دیگر ائیر پورٹس میں موجود ائیر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کے حصہ سے دستبرداری یا اسے خانگی کمپنی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔M