شنڈے گروپ کا شیوسینا کے اسمبلی دفتر پر دعویٰ

   

ممبئی : شیوسینا کا نام اور تیر کمان نشان حاصل کرنے کے بعدشندے دھڑے نے اب مہاراشٹر اسمبلی میں شیوسینا کے دفتر پر دعویٰ کیا ہے۔ شنڈے دھڑے کے ایم ایل اے نے دفتر سنبھال لیا۔ اس پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہماری پارٹی کا نام اور انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے، لیکن ٹھاکرے کا نام کوئی نہیں چھین سکتا۔ الیکشن کمیشن کو تحلیل کیا جائے۔ ادھو نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔اگر مہاراشٹر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نہ روکا گیا تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات ملک کے آخری انتخابات ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں آمریت چلے گی۔ یہاں، سپریم کورٹ نے پیر کو شیو سینا کے نام کا نشان شنڈے دھڑے کو دینے کے خلاف ادھو دھڑے کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کل دوبارہ درخواست دائر کرنے کو کہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی کے شیوسینا بھون میں اپنے ایم ایل ایز کی میٹنگ بلائی۔جہاں ان کے حامیوں نے شنڈے دھڑے اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے۔ ممبئی کے شیوسینا بھون میں ادھو دھڑے کی میٹنگ سے پہلے شندے دھڑے کے لیڈر سدا سرونکر نے کہا کہ ہم کسی جائیداد پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ صرف سینا بھون ہی نہیں ہمارے لیے پارٹی کی ہر شاخ ایک ہے۔ٹھاکرے دھڑے نے سپریم کورٹ میں پارٹی آئین کا حوالہ دیا ادھو دھڑے کی درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے 1999 کے آئین کو تنازعہ کے حل کی بنیاد بنایا۔ جبکہ 2018 میں پارٹی کے آئین میں ترمیم کی گئی۔ 2018 کے آئین کے تحت شیوسینا کے صدر پارٹی میں سپریم ہوں گے۔ کسی کو پارٹی سے نکالنے، جلسہ کرنے یا کسی کو پارٹی میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ پارٹی صدر کا ہوگا۔ 1999 کے پارٹی آئین کے مطابق پارٹی سربراہ کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں تھی۔