دوطرفہ مذاکرات کا امکان نہیں ‘علاقائی اورعالمی امور پر ہی توجہ مرکوز
پاناجی:پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے گوا پہنچ گئے ہیں جہاں ہندوستان کی صدارت میں تنظیم کا دو روزہ اجلاس منعقد ہورہا ہے ۔ بارہ برسوں میں کسی پاکستانی وزیر کا یہ ہندوستان کا دورہ ہے۔ اس موقع پر سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ ان دنوں پاکستان کو افراط زر اور معاشی بحران کا سامنا ہے۔ شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو وزرائے خارجہ کی کونسل میں گوا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا انتظار کر رہا ہے جو دوست ممالک کو اسے اقتصادی امداد بھیجنے کی اجازت دے گا۔ اسی ضمن میں ممکن ہے کہ بلاول بھٹو زرداری امن، تجارت اور علاقائی روابط کو بڑھانے کا پیغام لے کر گوا پہنچے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کوئی دو طرفہ مسائل نہیں اٹھائے جائیں گے۔ ملاقات کا محور صرف اور صرف باہمی تشویش اور دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری موسمیاتی تبدیلی پر بھی توجہ مرکوز کریں گے اور گزشتہ سال جون میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے پاکستان کو درپیش مسائل کو اٹھائیں گے۔ وہ رکن ممالک پر بھی زور دیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کریں۔بلاول بھٹو زرداری 4 اور 5 مئی کو گوا میں ہونے والے ایس سی او کے سی ایف ایم میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ہندوستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام اراکین کو دعوتیں بھیجی ہیں کیونکہ وہ ایس سی او کا موجودہ صدر ہے۔ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اقتصادی تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے اہم جغرافیائی سیاسی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔وزارت خارجہ کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ ہے۔ بلاول بھٹو اور روسی وزیرخارجہ کی ملاقات شام میں طے ہے جب کہ بلاول بھٹو اور ہندوستانی ہم منصب شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے عشائیے میں ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر وزرائے خارجہ سے ملاقات بھی عشائیے پرطے ہے جبکہ رات میں بلاول بھٹو شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے ملیں گے۔اقتصادی تعاون کو بڑھانا، بشمول باہمی تجارت کیلئے قومی کرنسی کی ادائیگیوں پر تبادلہ خیال کرنا شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے جمعہ کو بینولیم میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔یہ تجویز یوکرین کی جنگ اور روس پر عائد پابندیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو تنظیم کے بانی ارکان میں سے ایک ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں روس، چین، ندوستان، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔