شنگھائی تعاون تنظیم کا 24 واں سربراہی اجلاس قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شروع ہو گیا ہے۔صدر رجب طیب اردغان کی شرکت سے اور “شنگھائی تعاون تنظیم پلس” فارمیٹ پر بند کمرے کا یہ اجلاس آستانہ کے آزادی پیلس میں کیا جا رہا ہے۔قزاقستان کے صدر قاسم جومرت توکایف کی میزبانی میں جاری اجلاس میں روس کے صدر پوتن، چین کے صدر شی جن پنگ، ازبکستان کے صدر شوکت میرزایف، کرغزستان کے صدر ‘صدرجپاروف’، تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، ایران کے عبوری صدر محمد مخبر، بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر، بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل زانگ منگ شریک ہیں۔اجلاس شروع ہونے سے قبل رکن ممالک نے بیلاروس کی مکمل رکنیت کے فیصلے پر دستخط کئے ہیں۔ اس منظوری سے بیلاروس شنگھائی تعاون تنظیم کا 10 واں رکن بن گیا ہے۔اجلاس کا مرکزی خیال “کثیر الفریقی ڈائیلاگ کی تقویت: محکم امن و ترقی کے لئے کوششیں”ہے۔صدراردغان بھی اجلاس سے خطاب کریں گے۔