شکیل عامر کی ڈی اروند سے ملاقات پر سیاسی حلقوں میں ہلچل

   

Ferty9 Clinic

وزارت کی دوڑ میں ناکامی کے بعد متحدہ ضلع نظام آباد کے اراکین اسمبلی سیاسی مستقبل کیلئے فکرمند

نظام آباد :12؍ ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) رکن اسمبلی بودھن شکیل عامر آج رکن پارلیمان نظام آباد ڈی اروند سے ملاقات کی، اس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے جس کے بعد ٹی آرایس پارٹی میں ناراضگیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے واضح رہے کہ کابینہ کی توسیع کے بعد ضلع سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کابینہ میں توسیع کو لیکر ناراضگیاں ظاہر کررہے تھے ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والے شکیل عامر کے علاوہ نظام آباد رورل حلقہ کے رکن اسمبلی باجی ریڈی گوردھن کی بی جے پی میں شمولیت کی افواہیں سرگرم تھی لیکن اس سے قبل ہی رکن اسمبلی بودھن شکیل عامر رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند سے ملاقات کرتے ہوئے ہلچل پیدا کردی ہے ۔ واضح رہے کہ 2018 ء میں منعقدہ انتخابات میں متحدہ ضلع سے 8اراکین اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور کاماریڈی ضلع کے یلاریڈی سے کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے باعث یلاریڈی سے منتخب سریندر ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور متحدہ ضلع کے تمام اراکین اسمبلی ٹی آرایس میں تھے لیکن وزارت کے حصول کے دوڑ میں شامل تھے ۔ نظام آباد ضلع کے شکیل عامر ، گنیش گپتا ، باجی ریڈی گوردھن ، کاماریڈی جی گوردھن ، ہنمنت شنڈے وزارت میں شمولیت کیلئے کوشاں تھے اور متعدد مرتبہ اس سلسلہ میں کے سی آر ، کے ٹی آر اور کویتا سے نمائندگی بھی کرچکے تھے ۔عام انتخابات کے موقع پر ضلع کے انتخابی جلسہ میں کے سی آر نے شکیل عامر کو کامیاب بنانے کی صورت میں وزارت میں شامل کرنے کا واضح طور پر اعلان کیا تھا ۔ بودھن کی ترقی کیلئے عوام نے ٹی آرایس کا ساتھ دیتے ہوئے سینئر کانگریسی قائد پی سدرشن ریڈی کو ناکام بناتے ہوئے شکیل عامر کو کامیاب بنایا تھا اور شکیل عامر گذشتہ بھی عوام کے درمیان رہتے ہوئے گذشتہ 5 سال سے عوام کے درمیان رہتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور انتخابات کے بعد شکیل عامر کو کابینہ میں شامل کیاجانا یقینی سمجھا جارہا تھا لیکن محمود علی کو وزارت میں شامل کرنے کے بعد شکیل عامر کو دوسری مرتبہ کابینہ میں شامل کئے جانے کے امکانات ظاہر کررہے تھے ۔ انتخابات میں اعلان کرتے ہوئے بھی مکرجانے سے شکیل عامر کو شدید جھٹکہ لگا ۔ ٹی آرایس پارٹی کے بیشتر قائدین ناراضگیاں ظاہر کررہے ہیں ۔ ابتداء سے تحریک میں حصہ لینے والے قائدین کو نظر انداز کرتے ہوئے درمیان میں پارٹی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی میں مناسب مقام فراہم کرنے کی بھی شکایت کررہے ہیں ۔ ضلع کے اراکین اسمبلی وزارت کے دوڑ میں ناکامی کے بعد سیاسی مستقبل کو لیکر فکر مند ہیں اور اسی کے تحت باجی ریڈی گوردھن بی جے پی میں شامل ہونے کے بارے میں غور کرنے کی اطلاعات ہے لیکن اس سے قبل ہی شکیل عامر اروند سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلی طور پر بات چیت کرنے کی بھی اطلاع ہے ۔ رکن پارلیمنٹ کے آفس سے جاری کردہ بیان میں اروند نے واضح طور پر سیاسی صورتحال پر بات چیت کرنے کی تصدیق کی ہے ۔ جبکہ شکیل عامر نے بھی سیاسی صورتحال پر بات چیت کرنے کے بارے میں واضح طور پر جواب دینے سے انکار کیا لیکن اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی ہے پارٹی میں بڑھتی ہوئی ناراضگیاں پارٹی کیلئے خطرہ بن سکتی ہے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی اپنے گروپ کو مضبوط کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش میں مصروف ہے ایسے وقت میں شکیل عامر کی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند سے ملاقات اہمیت کی حامل ہے ۔