شہادت کربلا حق و باطل کا عظیم معرکہ

   

پیغام کربلا کانفرنس، علامہ محمد احمد رضا منظری، علامہ سید شاہ عبدالمعز حسینی قادری شرفی و دیگر کے خطابات
حیدرآباد۔/19 اگسٹ، ( راست ) شہادت کربلا اس عظیم آزمائش کا نام ہے جو حضور نبی مکرم ؐ کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی سے منسوب ہے۔ امام حسین ؑ نے اپنے نانا کے دین کی حفاظت کیلئے جو عظیم قربانیاں دی ہیں وہ تا قیام قیامت ایمان والوں کیلئے ایک عظیم مثال ہے۔ عالم اسلام پر امام حسینؑ کا بڑا احسان ہے کہ آپؑ نے حق کی راہ میں اپنا سر کٹادیا لیکن باطل کے آگے سرنہ جھکایا اور یہ پیغام دیا کہ خدا کی راہ سے بڑھ کر کوئی راہ نہیں، دین اسلام کی عظمت سے بڑھ کر کوئی عظمت نہیں، شریعت محمدیؐ کے تحفظ کیلئے جان تو کیا کنبے کا کنبہ قربان ہے۔ کائنات عالم میں یوں تو کئی انبیاء کرام سے آزمائشیں لی گئیں لیکن جو آزمائشیں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اہل بیت اطہار ؓ سے لی گئیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان خیالات کا اظہار کُل ہند مرکزی رحمت عالم کمیٹی کے زیر اہتمام پیغام کربلا کانفرنس 18 اگسٹ کو یاقوت پورہ بڑا بازار سے بریلی شریف اتر پردیش سے تشریف لائے مہمان مقرر عالم دین علامہ محمد احمد رضا منظری نے کیا۔ محمد شاہد اقبال قادری نے مہمان مقرر کا استقبال کیا۔ صدارت مولانا سید شاہ قادری ملتانی ، نگرانی جناب محمد شوکت علی صوفی نے کی۔ مہمان خصوصی حکیم ایم اے ساجد قادری ملتانی، مولانا محمد اخلاق اشرفی، سید اعزاز محمد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز حافظ کلیم الدین حسان کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ بارگاہ رسالت مآبؐ و بارگاہ امام حسین میں جناب عمران رضا، جناب محمد فرحت اللہ شریف، جناب اسد اللہ شریف نے ہدیہ نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا نے کہا کہ ہم حسینی ہیں اور ہمارا شیوہ نہیں کہ ہم باطل کے آگے سرجھکائیں، ہمیں کسی کے سامنے نظریں جھکانے کی ضرورت نہیں، ہم تو آنکھوں میں آنکھیں مکر باطل سے مقابلہ کرنے والے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم دنیائے فانی سے محبت نہ کریں بلکہ ہمیں تو کربلا میں پیغام ملا ہے کہ دین اسلام کی آبیاری و حفاظت کیلئے ہم جان تو دے سکتے ہیں لیکن کبھی باطل کی حمایت نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر سید شاہ عبدالمعز حسینی رضوی قادری شرفی نے کہا کہ حسینیت ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ حق و باطل کے اس عظیم معرکہ میں امام حسین عالی مقام نے جس طرح اپنے صبر و رضا کا ثبوت دیا ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ مولانا حافظ و قاری محمد اقبال احمد رضوی القادری نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیئے کہ اپنی زندگیوں میں حسینی انقلاب پیدا کریں۔ شریعت محمدیؐ کے تحفظ کیلئے آگے آئیں۔ نمازوں کی پابندی کریں ، دین متین کی تبلیغ و اشاعت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مولانا ڈاکٹر محمد عبدالنعیم قادری نظامی ( نائب صدر کمیٹی ) نے بھی خطاب کیا۔ شیخ اسلم اشرفی، سید لئیق قادری، محمد عبدالکریم رضؤی، محمد قادر خان قادری، محمد عظیم برکاتی، محمد عبدالمنان عارف ، سید طاہر حسین قادری، محمد عادل اشرفی، محمد عبید اللہ سعدی قادری شرفی نے انتظامات کئے۔ آخر میں صلوۃ و سلام پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔