شہباز شریف اور بیٹوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

   

جائیدادفروخت یا منتقل کرنے پر امتناع ، احکامات پر 15دن تک عمل آوری

اسلام آباد ۔ 3 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی احتساب بیورو (نیب) نے کرپشن کے جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ان کے صاحبزادوں حمزہ اور سلمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے۔نیب کی جانب سے جو احکامات جاری کیے گئے ان میں لاہور، چنیوٹ، ہری پور اور ایبٹ آباد میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنے کاحکم دیا۔یہ احکامات آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رہیں گے، جس کے دوران نیب ان کی تصدیق کے لیے متعلقہ احتساب عدالت میں درخواست دائر کرے گا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ شہباز شریف خاندان کی جائیدادیں فروخت یا منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے 6 احکامات جاری کیے گئے، جس میں ہر ایک میں شہباز شریف، حمزہ اور سلمان شہباز کی الگ الگ جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شہباز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے کرپشن کیسز میں نامزد ہیں اور نیب کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے نیب کی جانب سے کہا گیا کہ اب تک ان تینوں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف حاصل کیے گئے ثبوت یہ ‘یقین کرنے کے لیے معقول’ ہیں کہ شہباز شریف، سلمان اور حمزہ شہباز ‘کرپشن کے جرائم اور کرپشن پریکٹسز’ میں ملوث تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور ان کے بچوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیسیس ہیں۔نیب کے مطابق شہباز شریف نے لاہور، ایبٹ آباد اور ہری پور میں متعدد جائیدادیں اپنی بیویوں نصرت شہبازاور تہمینہ درانی کے نام پر حاصل کیں، جنہیں اب منجمد کردیا گیا ہے جبکہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے بھی لاہور اور چنیوٹ میں کئی جائیدادیں لیں، جنہیں اب نیب کی جانب سے منجمد کیا گیا ہے۔احتساب کے ادارے نے اپنے احکامات میں جن جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں سے تقریباً تمام رہائشی علاقوں میں ہیں۔اگر شہباز شریف کی بات کی جائے تو وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف (اپوزیشن لیڈر) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں۔تاہم ان کے خلاف صاف پانی کیس اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کی تحقیقات کی جارہی تھی اور انہیں گزشتہ برس 5 اکتوبر کو آشیانہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم رواں سال فروری میں لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
زمبابوئے کی آدھی آبادی کو فاقہ کشی کا سامنا
ہرارے( زمبابوئے) ۔3ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) زمبابوئے کی آدھی آبادی کو فاقہ کشی کا سامنا ہے کیونکہ ملک میں خشک سالی ہے اور سخت معاشی بحران کی صورتحال ہے ۔ اقوام متحدہ نے یہ بات بتائی ۔ غذا کی قلت سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام میں بتایا گیا کہ وہ 4ملین سے زیادہ افراد کی اس سلسلہ میں مدد کررہی ہے اور اس تعداد کو دوگنا کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے بتایا کہ زمبابوئے میں یہ صورتحال انسانوں کی پیدا کردہ ہے ۔