لاڑکانہ : پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ’گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ‘ یعنی حکومت سے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہباز شریف اپنی جماعت اور بھائی نواز شریف سے مخلص نہ ہوتے تو وہ آج وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوتے۔مریم نواز نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور حکومتی اتحاد کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے سکریٹری جنرل محمد علی درانی کی شہباز شریف کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماضی میں بھی حکومتی وزرا کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطے کیے جاتے رہے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔لاڑکانہ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی 13ویں برسی کی تقریب میں شرکت کے لیے سکھر روانگی سے قبل مریم نواز کا جاتی عمرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ساتھ مخلص ہیں اور ان کی نیت پر کوئی شک نہیں کرسکتا۔ مریم نواز کے بقول، ’’شہباز شریف اگر مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ وفادار نہ ہوتے تو آج خود وزیراعظم ہوتے۔‘‘قبل ازیں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا، ’’ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں، جس کا مقصد اس نا اہل کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو پی ڈی ایم سے این آر او دلوانا ہے۔‘‘ نواز شریف نے اس ٹوئیٹ میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ میں شمولیت کو مسترد کرتے ہوئے مزید لکھا، ’’ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہو گا۔‘‘