ایم جی بی ایس تا زو پارک بھی شامل ۔ یونیفائیڈ میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کا منصوبہ
حیدرآباد : تلنگانہ حکومت شہر حیدرآباد کے عوام کو ٹریفک مسائل سے راحت فراہم کرنے ’’روپ وے‘‘ سفر کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہی ہیں۔ یونیفائیڈ میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ اتھاریٹی (امٹا) اس کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ دن بہ دن شہر حیدرآباد میں ٹریفک ماسئل بڑھتے جارہے ہیں۔ میٹرو ریل کی سہولت سے تھوڑی راحت ضرور ملی ہے۔ اہم موقعوں پر میٹرو ریل میں بھی ٹریفک میں اچانک اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے شہریوں کو ایک اور ٹرانسپورٹ ’روپ وے‘ کو حیدرآباد میں متعارف کرانے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ شہر حیدرآباد میں دو کاریڈار کے ساتھ یدادری میں مزید ایک کاریڈار قائم کرنے جامع رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کررہی ہے۔ ان تین راستوں پر تقریباً 17 کیلو میٹر تک ’وپ وے‘ تعمیر کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ آسام۔ گجرات۔ ممبئی میں موجود ’روپ وے‘ کے طرز پر حیدرآباد میں بھی 50 تا 150 میٹرس کی بلندی روپ وے قائم کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایک کیبن میں 8 مسافر بیٹھنے کا ڈیزائن تیار کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی کیبل رلے ٹاورس میں 30 افراد کے بیٹھنے کے پراجکٹ پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ سنگاپور میں موجود ’’روپ وے‘‘ کا بھی جائزہ لیا جاچکا ہے۔ یونیفائیڈ میٹرو پالٹین ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے عہدیدار اس نئے پراجکٹ کو متعارف کرانے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ حیدرآبادی عوام کے علاوہ دوسرے علاقوں سے حیدرآباد پہنچنے والے سیاحوں کو روپ وے سہولت فراہم کرنے غور کررہی ہے۔ جن علاقوں میں میٹرو لائن نہیں ہے ان علاقوں میں ’روپ وے‘ تعمیر کرنے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے بالخصوص ایم جی بی ایس سے نہرو زوالوجیکل پارک خیریت آباد سے سکریٹریٹ، پیراڈائز سے سکریٹریٹ کے راستے میں تقریباً 12 کیلو میٹر روپ وے تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ سکریٹریٹ کے قریب واقع حسین ساگر تا لمبنی پارک، این ٹی آر گارڈن تا سنجیویا پارک بھی ہے۔ ان سیاحتی علاقوں میں عوام زیادہ تعداد میں پہنچتے ہیں۔ ضلع یادادری میں رائے گری تا یدادری مندر تک تقریباً 5 کیلو میٹر تک ’روپ وے‘ متعارف کرانے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔