ملک میں 14 ملین خاندانوں کی سلم علاقوں میں رہائش، مہاراشٹرا اور آندھراپردیش سرفہرست
حیدرآباد ۔22 ۔ جون (سیاست نیوز) حکومتوں کی جانب سے شہری علاقوں کی ترقی اور انفراسٹرکچر سہولتوں میں اضافہ سے متعلق بھلے ہی دعویٰ کیا جائے لیکن ملک کی کئی اہم ریاستوں میں آج بھی سلم علاقے ترقی کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں توسیع اور قابل استطاعت رہائش کی کمی کے نتیجہ میں غریب خاندان عارضی مکانات میں قیام پر مجبور ہیں۔ بنیادی سہولتوں سے محروم آبادیوں کو سلم علاقے کہا جاتا ہے۔ ہندوستان بھر میں 14 ملین سے زائد خاندان سلم علاقوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان کے صنعتی دارالحکومت کے طور پر اپنی شناخت رکھنے والے مہاراشٹرا میں سب سے زائد سلم علاقے ہیں۔ سلم آبادیوں کے معاملہ میں آندھراپردیش ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ بنیادی سہولتوں سے محروم علاقوں سے متعلق سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مہاراشٹرا میں سلم علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کی تعداد 2.55 ملین ہے جبکہ آندھراپردیش میں 2.45 ملین خاندان عارضی مکانات اور سلم علاقوں میں قیام پر مجبور ہیں۔ اترپردیش میں 1.43 ملین خاندان سلم علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ مغربی بنگال ، ٹاملناڈو اور مدھیہ پردیش میں بھی سلم آبادی قابل لحاظ درج کی گئی ہے۔ سروے سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان کے بڑے شہروں میں آج بھی رہائش کافی مہنگی ہے اور غریب اور متوسط طبقات بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ شہروں کی تیز رفتار ترقی اور توسیع کے ساتھ ساتھ بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی پر حکومتوں کو توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک کو سلم آبادیوں سے پاک کیا جاسکے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اہم شخصیتوں اور خاص طور پر بیرونی مہمانوں کے دورہ کے موقع پر سلم علاقوں کو عملاً چھپا دیا جاتا ہے تاکہ غربت اور پسماندگی کا احساس نہ ہونے پائے۔1/k/m/b