شہریان حیدرآباد کو پانی کی قلت کا سامنا

   

پانی خریدکر پینے پر مجبور، بورویلس خشک، زیرزمین پانی کی سطح کم
حیدرآباد۔4 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں پائی جانے والی پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے شہریوں کو پینے کے پانی کے علاوہ استعمال کے لئے پانی کو خریدنا پڑرہا ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں بورویل کے خشک ہونے کے سبب زیر زمین پانی بھی دستیاب نہیں ہورہا ہے۔ دونوں شہروں بالخصوص مادھا پور‘ شیرلنگم پلی ‘ شیخ پیٹ‘ ٹولی چوکی کے علاوہ دیگر علاقوں میں پانی کی قلت سے شہریوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان علاقوں کے علاوہ جن علاقوں میں ہمہ منزلہ عمارتیں موجود ہیں ان علاقوں میں بھی پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ دیگر استعمال کے پانی کی قلت کے نتیجہ میں پانی کے ٹینکرس خریدنے پڑرہے ہیں اور محکمہ آبرسانی کی جانب سے بروقت ٹینکرس کی سربراہی یقینی بنائے جانے میں ناکامی کے نتیجہ میں شہریوں کو خانگی ٹینکرس کے ذریعہ پانی خریدنا پڑرہا ہے۔ مادھاپور‘ گچی باؤلی‘ نانک رام گوڑہ ‘ شیرلنگم پلی ‘ ٹولی چوکی ‘ شیخ پیٹ‘ بنجارہ ہلز‘ جوبلی ہلز‘ کوکٹ پلی کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں جہاں ہمہ منزلہ عمارتیں موجود ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ان علاقوں میں پینے کے پانی کے بھی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ ٹولی چوکی کی کئی کالونیوں میں جہاں موسم باراں کے دوران ہونے والی بارش سے پانی جمع ہوجاتا ہے ان کالونیوں میں پینے کے پانی کی قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر حیدرآباد کے مغربی حصہ کے علاوہ نوآبادیاتی علاقوں میں بھی پینے کے پانی کے مسائل کے ساتھ زیر زمین پانی کی سطح میں گراوٹ کے نتیجہ میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر حیدرآباد میں موسم گرما کے دوران پینے کے پانی کی قلت نہ ہو اس کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں اور ٹینکرس کی تعداد میں اضافہ بھی کیاگیا ہے لیکن اس کے باوجود ٹینکرس کے وقت پر نہ پہنچنے کی شکایات عام ہونے لگی ہیں اور جن علاقوں میں ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی کی جا رہی ہے ان علاقوں میں بھی ہمہ منزلہ عمارتوں میں خانگی ٹینکرس کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا ہے کیونکہ زیر زمین سطح آب میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ شہر کے شمالی علاقوں میں بھی زیر زمین سطح آب میں کمی ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں بورویلس کے ناکارہ ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور کئی فیٹ کھدائی کے باوجود بھی بورویل کارکرد نہ ہونے کے سبب مکینوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شاہین نگر‘ بارکس‘ مہیشورم ‘ ونستھلی پورم‘ کے علاوہ مدھانی کے علاقوں میں بھی پینے کے پانی کے مسائل کا شہریوں کو سامنا کرنا پڑرہا ہے اور محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ مذکورہ علاقوں میں پینے کے پانی کے ٹینکرس روانہ کئے جانے لگے ہیںاس کے علاوہ راجندر نگر‘ عطاپور‘ بندلہ گوڑہ اور سنتوش نگر ‘ ملک پیٹ کے بعض علاقوں میں بھی بورویل ناکارہ ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں جس کی بنیادی وجہ موسم گرما کے دوران زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ ہے علاوہ ازیں جن علاقوں میں ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر عمل میں لائی جارہی ہے ان علاقوں میں پانی کے استعمال میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں بھی زیر زمین پانی کی سطح میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔3