ملک بھر میں بائیں بازو کا 19 ڈسمبر کو احتجاج، چاڈا وینکٹ ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔16۔ڈسمبر (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون پر عمل آوری نہ کرنے کا اعلان کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ لہذا اسے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ریاست میں عمل آوری سے گریز کرنا چاہئے ۔ مغربی بنگال ، کیرالا کے علاوہ بعض دیگر ریاستوں میں شہریت قانون پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کے سی آر کو بھی اسی طرح کا اعلان کرنا چاہئے ۔ وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ شہریت قانون کے خلاف بائیں بازو جماعتوں کی جانب سے ملک بھر میں 19 ڈسمبر کو احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں بھی احتجاجی ریالیاں اور دھرنے منظم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ مخدوم بھون میں سی پی آئی اسٹیٹ کمیٹی کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا تھاجس کے فیصلوں کو وینکٹ ریڈی نے میڈیا کیلئے جاری کیا۔ سی پی آئی کے اسسٹنٹ سکریٹری پی وینکٹ ریڈی اور اسٹیٹ کمیٹی رکن بالا ملیش کے ہمراہ چاڈا وینکٹ ریڈی نے احتجاجی پروگرام کی تفصیلات بیان کی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے لیکن بی جے پی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ قانون کے ذریعہ سماج کو مذہب کی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ہے۔ شہریت قانون دستور اور سیکولرازم کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اراضی پٹہ جات کی اجرائی میں تاخیر کے سبب کسان مختلف مسائل کا شکار ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں کسانوں کے حق میں جدوجہد کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ 23 ڈسمبر کو ریاست بھر میں ایکسائز دفاتر کے روبرو خواتین کا دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ شراب کی فروغ پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دھرنے منظم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یکم تا 7 جنوری مرکزی حکومت کی تمام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج منظم کیا جائے گا ۔ 8 جنوری کو بھارت گرامینا بند کے تحت دیہی علاقوں میں بند منایا جائے گا ۔ پارٹی کی ریاستی کمیٹی کے اجلاس میں سابق قومی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے قومی اور علاقائی صورتحال سے واقف کرایا ۔ سابق رکن پارلیمنٹ عزیز پاشا نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔