پڑوسی ممالک کے داخلی اُمور میں مداخلت کا الزام : پاکستان
اسلام آباد، 10 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے ہندوستانی پارلیمنٹ میں پیر کے روز منظور کئے گئے شہری ترمیمی بل (سی اے بی) پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل ہندوتو کے نظریہ کو فروغ دینے والا ہے اور وہ اس کی مذمت کرتا ہے ۔روز نامہ ڈان کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کے روز دعوی کیا کہ یہ بل بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور پاکستان کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کے سبھی معیارات کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بل سے متعلق جاری بیان میں کہاکہ ‘‘پاکستان سي اے بي بل کی مذمت کرتا ہے اور یہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کرنے کے انسانی حقوق اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے ’’۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘‘بل ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دینے والا ہے اور خطے میں بنیاد پرست ہندوتو نظریہ کی حوصلہ افزائی کرنے والا ہے ۔ یہ مذہب کی بنیاد پر پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا ایک واضح اظہار ہے جسے ہم پوری طرح مسترد کرتے ہیں’’۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں سی اے بی بل پیش کیا۔ اس بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی بنیاد پر ہراساں ہندو، بودھ ، جین، سکھ، پارسی اور عیسائی فرقے کے لوگوں کوہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔بل پر بحث کے دوران 48 ارکان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آدھی رات کو اپوزیشن نے بل منظور کرتے وقت ترامیم کو مسترد کرکے ووٹوں کی تقسیم کے بعد بل کو پاس کردیا گیا۔ بل کے حق میں 311 اور مخالفت میں 80 ووٹ پڑے ۔اس سے قبل یہ بل 2016 میں پہلی بار پیش کیا تھا لیکن مخالفت کی وجہ سے اسے واپس لے لیا گیا تھا۔
