شہریت ترمیمی بل کی منظوری کی صورت میں میں اپنے آپ کو مسلمان کہوں گا : ہرش مندر

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔ 10ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام) سابق آئی اے ایس آفیسر و مشہور انسانی حقوق جہد کار نے منگل کو بیان دیا کہ اگر شہریت ترمیمی بل پارلیمنٹ میں منظور ہوتاہے تو وہ سرکاری طور پر اپنے آپ کومسلمان ہوجانے کا اعلان کریں گے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ وہ این آر سی پر اگر عمل ہوتاہے تو وہ اس کیلئے دستاویزات داخل نہیں کریں گے اور وہ اپنے لئے وہی سزا کا مطالبہ کریں گے جو کسی مسلم کو عدم دستاویزات پر سزا ملے گی یا پھر حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں تحریک سیول نافرمانی میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔ شہریت ترمیمی بل پیر کو مسلسل سات گھنٹہ کی گرما گرم مباحث کے درمیان لوک سبھا میں 311 تائیدی اور مخالف ووٹس سے پاس ہوا ۔ یہ بل چہارشنبہ کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا ، اس سے قبل ’’ صداء ٹائمس ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے CAB اور NRC برصغیر کی تقسیم کی تلخ یادوں کو پھر سے تازہ کردے گا ۔ مندر نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ این آر سی صرف مسلمانوں پر لاگو کر کے CAB کے ذریعہ غیر مسلم افراد کو پناہ دینا چاہتی ہے اور قومی سطح پر صرف مسلمانوں کیلئے این آر سی نافذ کیا جائے گا ۔ اس عمل کے باعث ہم نظریہ ہندوستان کو نیست و نابود کررہے ہیں ۔ اس مسئلہ کو اگر آپ کچھ دیر کیلئے سیاست اور قانونی پیچیدگیوں سے علحدہ کردیں تو بھیہم کئی ملین غریب عوام کو ہراساں و پریشان کرنے کا باعث بن جائیں گے اور ایک مملکت کس طرح سے ایک عظیم تباہی و بربادی کا باعث بن سکتی ہے جو ایک لاامتناہی سلسلہ ہو ۔ بی جے پی کا اولین کھیل سب سے پہلے ترمیمی بل کے ذریعہ سے سوائے مسلمانوں کے دوسرے مذاہب کے سروکاروں کو تحفظ فراہم کردینا ہے پھر اس کے بعد مسلمانںو کیلئے این آر سی کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ اس بل کے تحت کابینہ نے ایسے غیر مسلم پاکستانی ، بنگلہ دیش اور افغانستان شہری جو 31ڈسمبر 2014ء تک ہندوستان میں داخل ہوئے ہیں ان کو ہندوستانی شہریت مل جائے گی ۔ مندر اُن چالیس شہریوں میں شامل ہیں جو ایودھیا فیصلہ پر نطرثانی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں ۔ ہرش مندر 2018ء میں بحیثیت اسپیشل مانیٹر ہیومن رائٹس کمیشن کے عہدہ سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ اس میں ان کیلئے کوئی بھی تعمیریرول ادا کرنے کیلئے نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام حراستی مرکز میں زیر حراست افراد کا حال معلوم کرنے کیلئے انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن کو تحریر بھیجی لیکن ابھی تک اس کا کوئی بھی جواب نہیں آیا ۔