اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے اور پاکستان کی زبان بولنے کا اپوزیشن پر الزام
تحریک تشکر پر بحث کا وزیراعظم مودی کا جواب ، حکومت کی کامیابیوں کا تذکرہ
نئی دہلی، 6فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن جماعت کانگریس پر شہریت ترمیمی بل (سی اے اے ) پر برم پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے یقین دلایا کہ اس سے ملک کے کسی بھی اقلیتی شہری کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں پر سی اے اے کے خلاف احتجاج کے مقامات پر عوام کو اُکسانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس قانون سے ملک کے کسی شہری پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ ہی اقلیتوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر ایوان میں تین دن تک چلی بحث کا جواب دیتے ہوئے مودی نے کانگریس اور اس کے دور اقتدار پر زور دار حملہ کیا۔ انہوں نے اہم اپوزیشن جماعت کو 1947میں ملک کی تقسیم کے لئے ذمہ دارٹھہراتے ہوئے کہاکہ کسی کو وزیراعظم بننا تھا اس لئے ہندستان کے اوپر ایک لکیر کھینچی گئی اور ملک کو تقسیم کردیا گیا۔ ان کا اشارہ پہلے وزیراعظم نہرو کی طرف تھا۔وزیراعظم نے تقریباََ 100منٹ کے اپنے جواب میں بیشتر وقت سی اے اے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ اس قانون میں ہندستان کے کسی بھی شہری پر کسی طرح کا اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا‘ہندستان کی اقلیتوں کو اس سے کسی طرح کا نقصان نہیں ہوگا۔ مسٹر مودی نے کانگریس اور اپوزیشن پر اس قانون کے تعلق سے خوف پیدا کرنے اور پاکستان کی زبان بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ہندستان کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پاکستان نے ہر کھیل کھیلا۔ اب اس کی بات نہیں پڑ پارہی تو لوگوں نے جن کو اقتدار کو تخت سے گھر بھیج دیا تو وہ اس کی زبان بول رہے ہیں۔انہوں نے 1984کے سکھ فسادات کے لئے کانگریس کوکٹھہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس کو 1984کے سکھ فسادات یاد ہیں؟ کیا وہ اقلیت نہیں تھے ۔ فساد بھڑکانے کے ملزمین کو وزیراعلی بنا دیتے ہیں۔ بیواؤں کو انصاف کے لئے تین تین دہائی تک انتظار کرنا پڑا۔ کیا وہ اقلیت نہیں ہیں۔ کیا اقلیت کے لئے دو دو ترازو ہوں گے ؟انہوں نے پنڈت نہرو کے خطوط اور ایوان میں ان کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی اور پہلے وزیراعظم مسٹر نہرو بھی اس طرح کے سی اے اے جیسے قانون کے حق میں تھے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ 1950کے نہرو لیاقت سمجھوتہ میں پنڈت نہرو نے ‘اقلیت’ لفظ کیوں استعمال ہونے دیا۔ اس وقت انہوں نے ‘تمام شہری’ کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا۔ اس معاہدہ میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے یہاں اقلیتوں پر مظالم نہیں ہونے دیں گے ۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ 1949میں پنڈت نہرو نے آسام کے وزیراعلی گوپی ناتھ باردولوئی کو خط لکھ کر کہا تھا کہ پناہ گزینوں اور مسلم تارکین وطن میں فرق کرنا ہی ہوگا۔ ملک کو پناہ گزینوں کی ذمہ دار لینی ہی ہوگی۔مسٹر مودی نے کہاکہ تقسیم کے وقت پاکستان چلے گئے مجاہدین آزادی بھوپندر کمار دت اور جوگندر ناتھ منڈل نے بھی پاکستان میں ہندووں پر مظالم کی بات کہی تھی اور بعد میں انہیں ہندستان واپس آنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں آزادی کے وقت اقلیتوں کی جو حالت تھی وہ آج بھی ویسی ہی ہے ۔ اتنی دہائیوں کے بعد بھی پاکستان کی سوچ نہیں بدلی ہے اور وہیں ہندووں، سکھوں اور دوسری اقلیتوں پر مظالم بڑھے ہیں۔ اس لئے حکومت کو یہ قانون لانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور کانگریس جیسی پارٹیوں نے جس دن ملک کے لوگوں کو ہندو۔مسلم کی بجائے ہندستانیوں کو ہندستانیوں کی نظر سے دیکھنا شروع کیا انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اچھا ہوا کہ ان پارٹیوں نے سی اے اے کی مخالفت کی۔ اگر وہ مخالفت نہیں کرتیں تو ملک کو ان کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔وزیراعظم نے کہاکہ ‘پبلک’ سب جانتی ہے ۔ گزشتہ دنوں جس طرح کی زبان بولی گئی، جس طرح کی تقریر کی گئیں، ایوان کے لیڈر بھی وہاں پہنچ گئے ، یہ نہایت افسوس کی بات ہے ۔
