شہریت قانون ، این آر سی ، این پی آر محض سماج میں نفرت کی دیوار

,

   

Ferty9 Clinic

مسلمان پہلا نشانہ ، درج فہرست طبقات و قبائل اور عیسائی بھی خطرے میں ، ریاستی کنونشن سے جناب عامر علی خاں و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے کہاکہ سی اے اے ‘ این آرسی او راین پی آر محض سماج میںنفرت کی دیوار کو وسعت دینے کے علاوہ کچھ اور نہیںہے ‘ انہوں نے کہاکہ این آرسی کے حوالے سے تحویلی مراکز (ڈٹینشن سنٹرس) کی بات کی جارہی ہے ‘ اور اگر ہم جیلوں میںجانے کو ترجیح دیں گے تو حکومت کو ملک بھر میں66ہزار تحویلی مراکز کی تعمیر کرنے پڑے گی جبکہ آسام میںجہاں پر ایک تحویلی مرکز میں3ہزار کے قریب لوگوں کورکھا جاتا ہے اس کی تعمیر کے لئے 45کروڑ کی لاگت ائی ہے ‘ مرکزی حکومت کواب اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان کی گرتی معیشت کے باوجود 66ہزار تحویلی مراکز کی تعمیر کے لئے پیسہ کہاں سے لائے گی ۔اتوار کے روزسندریا وگیان کیندرم میںفورم برائے تحفظ آئینی حقوق کے زیر اہتمام سی اے اے ‘ این آرسی ‘ این پی آر کے خلاف منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہاکہ میں اس بات کو تسلیم کرتاہوں کہ مودی حکومت ہندواو رمسلمانوں میںتقسیم چاہتی ہے تاکہ ہندوئوں کومتحد کرے اور ان کے نشانے پر ملک کے وہ تیس فیصد ہندو ہیںجنھوں نے مودی اور بی جے پی کو ووٹ دے کر منتخب کیاہے اور وہ چاہتے کہ تیس فیصد آبادی اور ان کے ووٹوں کے ذریعہ اقتدار پر قائم رہیں۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ اور یہی وجہہ ہے کہ وہ ماباقی 70فیصد میںتقسیم پیدا کررہے ہیںچاہئے وہ ہندو ہوں ‘ مسلمانوں ہو ‘ ایس سی ‘ ایس ٹی یا بی سی رہیں۔انہوں نے کہاکہ انے والے دنوں میںاگر این آرسی نافذ ہوگا اور این پی آر کے ذریعہ ہم راشن کارڈ ‘ ادھار کارڈ یاکسی اور دستاویزات کے اندراج کے ذریعہ شہریت ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو حکومت ہماری شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی ۔انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ کسی ہندو کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور خاص طور پر ان کے ساتھ اس کے زیادہ خدشات ہیںجس کا تعلق ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ او ربی سی طبقات سے ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ جب وہ شہریت سے محروم ہوجائے گاتو اسکو یاتو تحویلی مرکز میںڈال دیاجائے گا یاپھر وہ آواروں میویشوں کی طرح حکومتوں کی مرعاتوں سے محروم ہوکر سڑکوں پر گھومنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے بعد یہ مرحلہ آئے گا کے حکومت اس کو بطور ہندو شہریت دینے کی بات کرے گی تاکہ اس کا ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی موقف ختم کردیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کامقصد پسماندگی کاشکار طبقات کو جو مرعات فراہم کئے جاتے ہیں اس کو ختم کردیا جاسکے۔جناب عامر علی خان نے انگریزحکمرانوں کے نافذ کردہ قانون کا اس کے لئے حوالہ بھی دیا اور کہاکہ مودی حکومت نے ایسی گیارہ قانون منظور کئے ہیںجو عینی حقوق پر مشتمل ہیں جس میں سے ایک انگلو انڈین کمیونٹی کی ہر اسمبلی میںمحفوظ ایک سیٹ کے قانون کی برخاستگی ہے۔ بل منظوربھی ہوگیا اور اس قانون کو مسترد بھی کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکے اس کے بعد سے سارے ملک کی اسمبلیوں میں عیسائی آواز کو منظم سازش کے تحت برخاست کردیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ جیسا کہ سابق کے دانشواروں نے اپنے خطاب میںکہا ہے ہم سب کو ملک کر حکومت کے معلنہ سیاسی قوانین سی اے اے‘ این آرسی اور این پی آر کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس کاکی مادھور رائو‘ پروفیسر وینوگوپال ‘ ڈاکٹر شانتا سنہا‘ سی پی ائی ایم اسٹیٹ جنرل سکریٹری تمنینی ویرابھدرم‘ سی پی ائی اسٹیٹ جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی‘ سی پی ائی ایم ایل ‘ نیوڈیموکریسی جانکی رام اور گوردھن ریڈی‘ صدر مجلس بچائو تحریک مجید اللہ خان فرحت‘ انقلابی گلوکارہ ویملا اکانے بھی سی اے اے ‘ این آرسی اور این پی آر کے خلاف منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کیا۔ سی پیآئی ایم گریٹر حیدرآباد جنرل سکریٹری ڈی جی نرسنگ رائو نے کاروائی چلائی اور اس موقع پر انہوں نے 180سے زائد سیاسی اور سماجی تنظیموں ‘ جماعتوں پر مشتمل ایک فورم برائے تحفظ عینی حقوق کی تشکیل کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ فورم کی چیر پرسن ڈاکٹر شانتا سنہا ہوں گے اور مشیروں میںمختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے دانشواوران جن میںقابل ذکر نام جناب ظہیر الدین علی خان‘ جناب وقار الدین چیف ایڈیٹر رہنمائے دکن‘ راما ملکوٹے‘ جے بی راجو‘ آر کرشنیا‘ علی مسقطی کے نام قابل ذکر ہیں اور مذکورہ فورم کے کنونیران میں بائیںبازو جماعتوں کے اسٹیٹ جنرل سکریٹریز کے علاوہ رنگا رائو بھی شامل رہیں۔