شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف آج لوور ٹینک بنڈ پر ملین مارچ

,

   

Ferty9 Clinic

امن و ضبط برقرار رکھنے ، اشتعال انگیز نعروں سے گریز کا مشورہ، سماج کے تمام طبقات سے تعاون کیلئے جے اے سی کی اپیل

حیدرآباد۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) متنازعہ قومی شہریت قانون، این آر سی اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف کل 4 جنوری کو لوور ٹینک بنڈ دھرنا چوک پر ملین مارچ کا اہتمام کیا جائے گا۔ پولیس نے ملین مارچ کے لیے نکلس روڈ کی اجازت کے بجائے دھرنا چوک پر اجازت سے اتفاق کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پولیس کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ملین مارچ کا مقام تبدیل کیا ہے۔ شہر اور اضلاع سے بری تعداد میں عوام کی شرکت کے پیش نظر وسیع تر انتظامات کئے جارہے ہیں۔ مسلم جماعتوں اور تنطیموں کے علاوہ کئی سکیولر اور سماجی و عوامی تنظیموں نے ملین مارچ کی تائید کرتے ہوئے شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی محمد مشتاق ملک نے اضلاع اور شہر سے آنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور پرامن احتجاج کو یقینی بنائیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بے ہنگم گروپ کی شکل میں نہ نکلیں بلکہ صف بندی کے ساتھ مارچ میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اندرا پارک دھرنا چوک پر رہے گا اور یہ ریالی کا احتجاج نہیں۔ عوام کو راست طور پر مقررہ وقت دو بجے دن اندرا پارک پہنچنا چاہئے۔ خواتین کے لیے علیحدہ انتظام رکھا گیا ہے۔ اسی دوران سماج کے مختلف گوشوں کی جانب سے ملین مارچ کی تائید کا اعلان کیا گیا۔ اقلیتی اداروں کی اسوسی ایشن نے مارچ کی تائید کی اور اسکولوں کو چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ نظم و ضبط کی برقراری کیلئے والنٹرس کو متعین کیا جائے گا۔ گاڑیوں کی پارکنگ این آر اسٹیڈیم کے عقبی حصہ میں رہے گی۔ وکلاء کی تنظیم نے بھی ملین مارچ کی تائید کی ہے۔ مشیرآباد کے تاجروں نے ہفتے کے دن دوپہر سے دکانات بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مشتاق ملک نے کہا کہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف یہ طویل جدوجہد کا آغاز ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو مارچ میں مدعو کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کو مارچ کی قیادت کرنے کے لیے دعوت نامہ روانہ کیا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں 40 سے زائد جماعتیں اور تنظیمیں شامل ہیں۔ مارچ کے منتظمین نے امن و امان کی برقراری میں تعاون اور شرپسندوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ مارچ میں شرکت کرنے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔