راما کرشنا مشن کولکتہ میں وزیر اعظم کا خطاب۔ مشن کے ذمہ داروں کا مودی کی تقریر سے اظہار لا تعلقی ۔ کانگریس و کمیونسٹوں کا احتجاج جاری
کولکاتہ 12 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) نئے شہریت قانون کی پرزور مدافعت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ اس قانون پر جو تنازعہ پیدا ہوا ہے اس کے نتیجہ میں ساریدنیا اس بات سے واقف ہوگئی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ اب پاکستان کو اپنی ان حرکتوں کا جواب دینا ہوگا ۔ نریندرمودی اس بات کی مذمت کی کہ نوجوانوں کے ایک طبقہ کو شہریت ترمیمی قانو کے تعلق سے گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ اس قانون کا مقصد شہریت دینا ہے کسی کی شہریت واپس لینا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اس قانون میں ترمیم نہیں کی ہوتی تو یہ تنازعہ پیدا نہیں ہوتا ۔ اگر یہ تنازعہ پیدا نہیں ہوتا ت ودنیا اس بات سے واقف نہیں ہوتی کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان پر زیادتیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کس طرح سے حقوق انسانی کو پامال کیا جاتا ہے اور کس طرح سے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کو تباہ کیا جاتا ہے ۔ یہ ہماری پہل کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو اب اقلیتوں پر مظالم کیلئے جواب دینا ہوگا ۔ انہوں نے راما کرشنا مٹھ بیلور مٹھ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ نریندر مودی کی واپسی کے فوری بعد اس مھ کے ذمہ داروں نے خود کو اس تقریر سے الگ تھلگ کرلیا ہے اور کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والے لوگ ایک ہی والدین کی اولاد بھائی بہن کی طرح رہتے ہیں ۔ مشن کے جنرل سکریٹری سوامی سویرانندا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ راما کرشنا مشن کی جانب سے وزیر اعظم کی تقریر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائیگا ۔ ہماری ایک غیر سیاسی تنظیم ہے ۔
ہم سی اے اے پر وزیر اعظم کی تقریر پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے ۔ ہم یہاں اپنے گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں تاکہ اپنے اندر کی آواز کو سکون پہونچا سکیں۔ ہم مادی مسائل پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاست سے بالاتر ہیں۔ ہمارے لئے وزیراعظم ملک کے لیڈر اور ممتابنرجی ریاست کی لیڈر ہیں۔ ہم ایک تنظیم کی حیثیت سے سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ چاہے ہندو ہوں ‘ اسلام ہو ‘ عیسائی مذہب ہو سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ہم سگے بھائی بہنوں سے زیادہ بہتر طریقے سے رہتے ہیں۔ جب نریندر مودی تقریر کر رہے تھے کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے کارکن مودی کے دورہ کولکاتہ کے خلاف دوسرے دن بھی احتجاج کر رہے تھے ۔ احتجاجی قلب شہر میں اسپلانڈے کے مقام پر رات بھر بیٹھے رہے اور وہ نیتا جی انڈور اسٹیڈیم کے باہر بھی پہونچ گئے تھے جہاں مودی نے کولکتہ پورٹ ٹرسٹ کی 150 سالہ تقریب سے خطاب کیا تھا ۔ نریندر مودی نے اس ٹرسٹ کو جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکرجی کے نام سے معنون کیا ۔ ان احتجاجیوں کو پولیس نے گاڑیوں میں بٹھاکر دوسرے مقام کو منتقل کرلیا ۔ آج وزیر اعظم کے کسی بھی پروگرام میں چیف منسٹر ممتابنرجی نے شرکت نہیں کی ۔ کل انہوں نے وزیر اعظم سے شخصی ملاقات کی تھی اور اسے خیر سگالی ملاقات قرار دیا تھا ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کسی کی شہریت لینے سے متعلق نہیں بلکہ شہریت دینے سے متعلق ہے ۔ آج قومی یوم نوجوانان کے موقع پر وہ اس ملک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی راتوں رات تیار کیا گیا قانون نہیں ہے ۔ ہم سب کو یہ جاننا چاہئے کہ دنیا میں کسی بھی مقام پر مذہبی بنیاد پر معتوب کوئی شخص ہوتا ہے ا ور وہ ہندوستان اور اس کے دستور میں یقین رکھتا ہے تو وہ طریقہ کار کے مطابق یہاں کی شہریت کیلئے درخواست داخل کرسکتا ہے اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اپنی تقریر میں مودی نے گاندھی جی کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ گاندھی جی نے بھی ایسے قانون کی حمایت کی تھی ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ان کی حکومت نے صرف مجاہدین آزادی کی خواہشات کی تکمیل کی ہے ۔ مودی نے شمال مشرقی ہندوستان کے روایتی کلچر و شناخت کی حفاظت کا بھی عزم ظاہر کیا ۔
