حیدرآباد۔یکم جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) شہریت ترمیمی قانون پر پیدا شدہ تنازعہ کے پس منظر میں عوام میں کافی بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ ترملگیری کے لال بازار ہیڈ پوسٹ آفس میں صبح کی اولین ساعتوں سے عوام کا ہجوم دیکھا جارہا ہے جہاں درجنوں افراد طویل قطاروں میں کھڑے اپنے نئے آدھار کارڈز کیلئے ناموں کا اندراج کرانے کے خواہشمند ہیں۔ کئی افراد صبح 6 بجے سے پہلے ہی قطار میں کھڑے ہوتے دیکھے جارہے ہیں۔ تاہم پوسٹ آفس اسٹاف کی طرف سے ایک دن میں صرف 20 افراد کو ہی ٹوکن دیئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ٹوکن سے محروم افراد برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ایک سماجی کارکن نے یہ منظر دیکھ کر ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ عوام کی تکلیف دیکھیئے جو پڑتے پانی میں بھیگتے ہوئے قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔‘ ایک خاتون نے شکایت کی کہ پوسٹ آفس کے ایک ملازم نے 6:30 بجے صبح کاغذ کے ایک ٹکڑے پر میرانام لکھ لیا اور میں جب 10 بجے دن پہنچی تو میرے نام کی چٹھی غائب تھی۔ اس خاتون نے جو اپنا نام نہیں بتانا چاہتی تھی کہا کہ آدھار کارڈ بنانے کا عمل مکمل کرنے کیلئے اس کو غیر ضروری طور پر دوسرے دن بھی آنے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ اکثر افراد کی رائے ہے کہ پوسٹ آفس کا عملہ اس کام کیلئے کافی نہیں ہے اور ڈاک خانے یہ کام نہیں کرسکتے۔ بعض افراد نے شکایت کی کہ ڈاک خانوں کے باہر نوٹس بورڈ پر یہ درجہ ہے کہ غیر مالیتی اُمور ہفتہ کے تمام ایام میں 9 بجے صبح تا سہ پہر 3 بجے انجام دیئے جاتے ہیں لیکن آدھار کارڈ کے معاملہ میں 8 بجے کے بعد کوئی ٹوکن وصول نہیں کرتا۔ وقت سے بہت پہلے ہی پرچیوں کی فراہمی اور وصولی کا کام بند کردیا جاتا ہے۔