سعید آباد ‘ ہمایوں نگر اور مکہ مسجد کے باہر نوجوانوں کے مظاہرے ۔ مولانا نصیر الدین گرفتار
حیدرآباد /24 جنوری (سیاست نیوز) شہریت قانون و این آر سی کے خلاف دونوں شہروں میں جمعہ کو احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ ان احتجاجوں کے دوران عوام نے مرکزی حکومت کے سیاہ قوانین کے خلاف اپنی ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا ۔ شہر میں مختلف مقامات پر عوام کی جانب سے وقفہ وقفہ سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج جمعہ کے پیش نظر زبردست عوامی احتجاج کے اندیشوں کے تحت پولیس نے بھی سکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے تھے اس کے باوجود عوامی احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے ۔سعیدآباد اجالے شاہ مسجد کے روبرو درسگاہ جہاد و شہادت کے کارکنوں اور عوام نے احتجاج کیا ۔ بعد نماز جمعہ سینکڑوں افراد مسجد کے باہر جمع ہوگئے لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں صدر وحدت اسلامی مولانا محمد نصیرالدین اور صدر ڈی جے ایس ، ایم اے ماجد نے پولیس کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں گرفتار کرکے عنبرپیٹ پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔ اچانک احتجاج میں کئی خواتین نے بھی حصہ لیا اور احتجاجیوں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھ کر سعیدآباد پولیس نے احتجاجیوں کو سعیدآباد چوراہے سے گورنمنٹ پرنٹنگ پریس نزد چنچل گوڑہ جیل تک ریالی نکالنے کی اجازت دی ۔ ریالی کے دوران سینکڑوں افراد نے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف نعرے بازی کی اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی خاموشی پر سوال کیا ۔ احتجاجی پلے کارڈس اور بیانرس تھامے ہوئے تھے ۔ اسی قسم کے ایک اور اچانک احتجاج میں سینکڑوں افراد نے مسجد عزیزیہ ہمایوں نگر کے روبرو مظاہرہ کیا جس میں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ اس احتجاج کے نتیجہ میں ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوگیا اور ہمایوں نگر پولیس اسٹیشن کے عملہ پہونچ کر احتجاجیوں کو منتشر کردیا ۔ علاوہ ازیں مکہ مسجد کے باہر بھی نماز جمعہ کے بعد کچھ نوجوانوں نے نعرہ بازی کی اور مظاہرہ کرنے لگے تاہم پولیس نے انہیں وہاں سے منتشر کردیا ۔
