اضافی فیس کی ادائیگی پر گرین کارڈ کی اجرائی کا بل ایوان نمائندگان میں منظور
حیدرآباد۔14ستمبر(سیاست نیوز) امریکی شہریت کی نئی پالیسی کی منظوری سے لاکھوں ہندستانیوں کو فائدہ حاصل ہوگا اور وہ اضافی فیس ادا کرتے ہوئے گرین کارڈ یعنی مستقل سکونت حاصل کرپائیں گے۔ امریکہ میں مستقل سکونت کے لئے ملازمت کے حصول اور گرین کارڈ کے حصول کے لئے برسوں سے امریکہ میں مقیم دیگر ممالک کے شہریوں بالخصوص ہندستانیوں کو نئے ایمگریشن قوانین کی منظوری کی صورت میں زبردست فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے اضافی فیس ادا کرتے ہوئے گرین کارڈ کے حصول کے سلسلہ میں بل کی منظوری کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو ایسی صورت میں نئے ایمگریشن قوانین کے مطابق ہزاروں ہندستانی نوجوان جو امریکہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں زبردست فائدہ حاصل ہوگا اور وہ مستقل سکونت اور گرین کارڈ کے حصول کے لئے اہل قرار دیئے جائیں گے۔ اس بل کو تیار کرنے والی کمیٹی کے مطابق لاکھوں افراد گرین کارڈ کی اجرائی کے منتظر ہیں اور عرصۂ دراز سے محکمہ میں جمع شدہ درخواستیں زیر التواء ہیں جن کی یکسوئی ناگزیر ہے۔ ان جمع شدہ درخواستوں اور دیگر امور کو دیکھتے ہوئے کمیٹی کی جانب سے سفارش کردہ اس بل کو منظور کیا گیا ہے اور اس کے قانون بن جانے کی صورت میں ملازمت کی بنیاد پر گرین کارڈ کے حصول کے خواہاں افراد کے لئے 5000امریکی ڈالر کی ادائیگی کے مستقل سکونت کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ امریکہ کے EB-5 ویزاکے حصول کے لئے 50ہزار ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے جو کہ شہریت کے حصول کے ساتھ سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں اور یہ منصوبہ 2031 تک برقرار رہے گا۔ امریکی شہری افراد خاندان کی جانب سے داخل کی گئی شہریت کی درخواستوں کے لئے جو 2سال قبل داخل کی گئی ہیں ان کی یکسوئی کیلئے اس بل میں اضافی فیس 2500 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اندرون دو سال داخل کی جانے والی درخواستوں کے اضافی 1500امریکی ڈالر فیس کا تعین عمل میں لایا گیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں عدالتی کمیٹی جانب سے پیش کئے گئے اس بل کی منظوری کے بعد اسے قانون بنائے جانے کے لئے کچھ وقت لگے گا ۔M
لیکن کہا جا رہاہے کہ اگر اس قانون کو جلد منظور کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں گرین کارڈ کے لئے زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کے علاوہ نئے گرین کارڈس کی اجرائی عمل میںلائی جائے گی جو کہ ہندستانیوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔M