تلنگانہ اسٹیٹ فینانس کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کرنے جی ایچ ایم سی کی تجویز
حیدرآباد۔24 نومبر(سیاست نیوز) شہریان حیدرآباد پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ٹیکس کا نیا بوجھ عائد کرنے کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں لیکن جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہریوں پر عائد کئے جانے والے اس بوجھ کو ٹیکس کا نام نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے سی ڈی ایف یعنی سٹی ڈیولپمنٹ فنڈ کے نام سے وصول کرنے پر غور کیا جا رہاہے ۔ تلنگانہ ریاستی فینانس کمیشن کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو پیش کی گئی سفارشات میں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہریوں سے اضافی ٹیکس وصول کرتے ہوئے جاریہ ترقیاتی کاموں کو مکمل کرنے کے اقدامات کریں ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہریان حیدرآباد سے بالراست ٹیکس کی وصولی کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ریستوراں ‘ تجارتی اداروں‘ دواخانوں‘ پٹرول کی فروخت کے علاوہ دیگر امور پر شہری ترقیاتی فنڈ کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کے سلسلہ میں غور کرنے لگی ہے۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ فی الحال مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں 200کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس رہائشی مکانات کے ذریعہ وصول کیا جا رہا ہے اور 1200 کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس تجارتی جائیدادوں سے موصول ہورہا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے ذمہ دار عہدیدار نے بتایا کہ تجارتی لائسنس کے ذریعہ 56کروڑ روپئے وصول ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی شہر حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی کو کئی معاشی و مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ اسٹیٹ فینانس کمیشن کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو اضافی ٹیکس کے آغاز کے مشورہ کی ہدایات چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور تلنگانہ ریاستی فینانس کمیشن نے ان ہدایات کے موصول ہونے کے بعد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو یہ سفارشات روانہ کی ہیں۔جی ایچ ایم سی کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کی مالی حالت پر بھی تلنگانہ اسٹیٹ فینانس کمیشن نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ وہ اپنے شہری کی ترقی اور اپنے کارپوریشن کے پراجکٹس کے لئے خود آمدنی میں اضافہ کریں اور اس اضافی آمدنی کے ذریعہ ہی نئے پراجکٹس کا آغاز کریں۔جی ایچ ایم سی کی جانب سے سٹی ڈیولپمنٹ فنڈ کے نام سے کوئی نیا ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس بوجھ حیدرآباد میں رہنے والی 85 سے 90 لاکھ پر پڑے گا اسی لئے جی ایچ ایم سی کی جانب سے کافی غور و خوض کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گاکہ کمیشن کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کو کس طرح قابل عمل بنایا جائے اس بات پر اعلی سطحی اجلاس میںغورکیا جا رہاہے اور اس سلسلہ میں تجاویز حاصل کی جا رہی ہیں کہ اگر اس بات کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا ہے تو متبادل کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں جس کے ذریعہ جی ایچ ایم سی کی معاشی بد حالی کو دور کیا جاسکے ۔بتایا جاتا ہے کہ عہدیدارو ںکی جانب سے تفریحی ٹیکس کے علاوہ پروفیشنل ٹیکس اور گاڑیوں کے ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی لانے کے سلسلہ میں بھی غور کیا جا رہاہے اور ایسا کئے جانے کی صورت میں سی ڈی ایف کے نفاذ سے نجات حاصل ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔