شہریوں پر ٹیکس کا کوئی مالی بوجھ عائد نہیں ہوگا

   

Ferty9 Clinic

27بلدیات کے جی ایچ ایم سی انضمام مباحث پر ریاستی وزیر سریدھر بابو کی وضاحت
حیدرآباد : 2جنوری ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ ریاستی حکومت بلدی نظم و نسق سسٹم کو مزید مضبوط بنانے ٹھوس اقدامات کررہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر اور موثر خدمات فراہم کی جاسکے ۔ آج اسمبلی میں میونسپل ایڈمنسٹریشن اور جی ایچ ایم سی ترمیمی بل پر بحث کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ سریدھر بابو نے شہر کے مضافات میں واقع 27بلدیات کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے سے قبل عدم مشاورت کے الزامات کو مسترد کردیا ۔ جی ایچ ایم سی کونسل میں اس تجویز پر مختلف جماعتوں کے 65 کارپوریٹرس نے مباحث میں حصہ لیا جس کے بعد قرارداد منظور کی گئی ۔ اس کے علاوہ جن بلدیات کو جی ایچ ایم سی میں ضم کیا ہے وہاں کونسل موجود نہیں ہے ۔ ان بلدیات کی گزشتہ سال میعاد مکمل ہوچکی ہے ۔ کافی مشاورت کی گئی اور عوام سے اعتراضات اور تجاویز بھی وصول کئے گئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ انضمام کے بعد عوام پر ٹیکس کی شکل میں کوئی اضافی بوجھ عائد نہیں کیا جائے گا ۔ گریٹر حیدرآباد میں شہری سہولتوں کو بہتر بنانے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ۔ تاہم ڈی سریدھر بابو نے واضح کیا کہ فی الحال یہ حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ حیدرآباد کو کتنے کارپوریشنس میں تقسیم کیا جائیگا ۔ مضافاتی بلدیات کا جی ایچ ایم سی میں انضمام عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کیا گیا اور اس سلسلہ میں تمام فریقین کی رائے حاصل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بنیادی طور پر عظیم تر حیدرآباد کو تین کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ ریاستی وزیر کہا کہ چیف منسٹر نے موسیٰٰ ندی کے معاملہ میں کسی فرد یا جماعت کا نام نہیں لیا اور نہ کسی کو نشانہ بنایا ۔ ایسے میں اپوزیشن کا غیر ضروری ردعمل درست نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایچ ایم سی میں وارڈس سے متعلق کوئی مسئلہ ہے تو حکومت اسے حل کرے گی ۔ جی ایچ ایم سی کی توسیع کے پیش نظر 8 آئی اے ایس آفیسرس کو زونل کمشنرس مقرر کیا گیا اور خصوصا حیدرآباد کی انتظامیہ کیلئے دو آئی اے ایس آفیسرس کا تقرر کیا گیا ہے ۔ 2