اردن کی ملکہ رانیہ کی اسرائیل اور مغربی میڈیا پر شدید تنقید
عمان/دبئی : عالمی میڈیا میں سات اکتوبر سے اسرائیل اور حماس میں جنگ شروع ہونے کے بیان کو ملکہ اردن نے عظیم دوہرا معیار قرار دیا۔ فلسطینی مائیں بھی اپنے بچوں سے دنیا بھر کی ماؤں طرح محبت کرتی ہیں۔ مگر اپنے بچوں کو نعشوں میں بدلتا دیکھنے کو تیار نہیں۔ اردن کی ملکہ رانیہ نے ایک انٹرویو میں مردانہ وار اور زور دار استدلال پیش کیا۔اردن کی ملکہ رانیہ نے اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے بارے میں عالمی رویے کو عظیم دوہرا معیار قرار دیا ہے۔ ملکہ نے اس معاملے میں دنیا کے بڑے طبقے کے بہرے اور گونگے پن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور حیرت کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا نہ صرف بمباری کرنے والے کو مدد دے دہی بلکہ ایسا کرنے پر اکسا بھی رہی ہے۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا 6000 ہزار فلسطینی شہید ہوئے ان میں 2400 فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔ بستیاں ملبے میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ کیسا حق دفاع ہے جس کا عالمی سطح پر پرچار کیا جارہا ہے۔ملکہ رانیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مسلسل جنگی ماحول میں امریکی ٹی وی سی این این کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں یہ باتیں کہیں۔ملکہ رانیہ نے انٹرویو کرنے والی معروف ٹی وی اینکر امان پور کے سوال کے جواب میں کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے جس طرح کا بیانیہ پیش کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی یہ جنگ سات اکتوبر سے شروع ہوئی یہ درست نہیں ہے۔اسرائیل اور فلسطینیوں کی جنگ کی کہانی کی ایک تاریخ ہے۔ اس لیے بہت سے میڈیا ہاوسز کا یہ انداز کہ اسرائیل بر سر جنگ کے تحت اسٹوری کور نہیں ہوتی۔ کیونکہ بہت سے فلسطینیوں کے لیے علیحدگی کی دیوار اور خار دار اآہنی تاروں کے پیچھے یہ جنگ کبھی رکی نہیں ہے۔
(غالباً ملکہ رانیہ اس جنگ کو یوم نکبہ 14 مئی 1948 پر منتج ہونے والی اس دہشت گردی کے تناظر میں دیکھ رہی تھیں، جو ایک سازش کے تحت فلسطینیوں پر مسلط کی گئی اور جس کی کوکھ سے جنم لینے والی جنگ اب وقفے وقفے سے پھر ابھر ا?تی ہے، تاہم یہ کبھی مکمل رکی نہیں ہے۔ملکہ رانیہ نے کہا کہ یہ جنگ 75 برسوں پر پھیلی کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے ہمہ گیر موت اور تباہی کی اور بے گھر ہونے کی کہانی ہے۔ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملکہ کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ مگر عالمی ذرائع ابلاغ کے جاری بیانیے سے جوہری ہتھیاروں سے لیس ایک علاقائی قوت جس نے قبضہ کیا ظلم اور جبر کا ارتکاب کیا اس کا حوالہ غائب ہوتا ہے۔ اردنی ملکہ نے واضح کیا کہ اردن کے لوگ غم، درد اور صدمے کی اس صورتحال میں متحد ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ جو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کی (نئی قسط) کے اب تک اٹھارہ دنوں میں شہریوں کی اموات سے جنم لے رہے ہیں۔ ملکہ اردن نے مزید کہا ‘ ہم دیکھ رہے ہیں فلسطینی مائیں جو اپنے بچوں کے نام ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لکھ رہی ہیں کہ بمباری کا ہدف بننے کے بعد ان کے بچوں کی شناخت کی کوئی صورت باقی رہ سکے۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بمباری سے بچوں کی شہادتیں سب سے زیادہ ہو رہی ہیں اور ان کے بچے بمباری کے بعد نعشوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس جاری جنگ کو اسرائیل کے حق دفاع کے حوالے سے جواز دینا چاہتے ہیں، یہ جوا ز درست نہیں ہے، اب تک 6000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 2400 بچے بھی شہید ہو چکے ہیں۔ اس کو دفاع کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو ہفتوں میں ہم نے غزہ پر اندھی بمباری دیکھی ہے۔ خاندانوں کے خاندان ختم ہو گئے۔ محلے اور بستیاں تباہ ہو چکیں۔ ہسپتال، اسکول مسجدیں اور گرجا گھر سبھی کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کیسا حق دفاع ہے؟