میئر اورڈپٹی میئر کے عہدہ پر مجلس کی تائید کے بغیر کامیابی، بی جے پی کے الزام سے بچنے ایکشن پلان
حیدرآباد: گریٹر بلدی انتخابات میں پارٹی کے ناقص مظاہرہ سے پریشان چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شہری علاقوں میں بی جے پی کو قدم جمانے سے روکنے کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ حیدرآباد کے بعد کھمم اور ورنگل میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات ہوں گے جن کی میعاد مارچ میں ختم ہورہی ہے۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے مختلف گوشوں سے رپورٹ حاصل کی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین اور کیڈر کی رائے پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 6 برسوں میں مقامی جماعت مجلس کے ساتھ ٹی آر ایس کی کھل کر دوستی کے نتیجہ میں بی جے پی کو مذہبی بنیادوں پر ووٹ تقسیم کرنے کا موقع ملا۔ چیف منسٹر نے اسمبلی اور اس کے باہر ایک سے زائد مرتبہ مجلس کے ساتھ دوستی اور مفاہمت کا کھل کر اظہار کیا تھا ۔ حیدرآباد کے نتائج کے بعد چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی سے علحدہ علحدہ گروپس کی شکل میں ملاقات کرتے ہوئے شکست کی وجوہات پر بات چیت کی۔ چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والے بیشتر قائدین نے مشورہ دیا کہ مستقبل میں مجلس سے فاصلہ برقرار رکھا جائے تاکہ بی جے پی کو یہ الزام عائد کرنے کا موقع نہ ملے ٹی آر ایس نے فرقہ پرست جماعت سے دوستی کی ہے۔ بلدی انتخابات میں یہی پروپگنڈہ ٹی آر ایس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے تسلیم کیا کہ مجلس سے گہری دوستی نے پارٹی کیلئے نقصان کا سامان کیا ہے ۔ اگرچہ مستقبل میں درپردہ مفاہمت برقرار رہے گی تاہم کسی بھی موقع پر کھل کر اظہار نہیں کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق کھمم اور ورنگل میں بی جے پی کو فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل آوری سے روکنے کیلئے چیف منسٹر نے حیدرآباد کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے سلسلہ میں حکمت عملی تیار کی ہے ۔ چیف منسٹر نہیں چاہتے کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے سلسلہ میں مجلس کی تائید حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کو تنقید کا موقع فراہم کریں۔ چیف منسٹر حکمت عملی کے مطابق ٹی آر ایس اپنی عددی طاقت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرے گی ۔
