شہری علاقوں میں تعمیری اجازت میں سہولت سے متعلق قانون منظور

   

سیلف سرٹیفکیشن کے ذریعہ تعمیر کا آغاز ممکن، اسمبلی میں کے ٹی راما راؤ کا بیان
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں شہری علاقوں میں تعمیری اجازت کے سلسلہ میں شہریوں کو راحت دینے والے قانون کو متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔ تلنگانہ اسٹیٹ بلڈنگ پرمیشن اپروول اینڈ سیلف سرٹیفکیشن سسٹم (ٹی ایس ۔ بی پاس) بل منظور کرلیا گیا جس کے تحت تعمیری اجازت کے حصول میں آسانی ہوگی ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے بل پیش کیا جسے تمام جماعتوں کی تائید سے منظور کرلیا گیا ۔ نئے قانون کے تحت عوام سیلف سرٹیفکیشن کے ذریعہ عمارت کا تعمیری کام شروع کرسکتے ہیں۔ کے ٹی آر نے مذکورہ قانون کو ترقی پسند قرار دیا اور کہا کہ ٹی ایس بی پاس کے ذریعہ عوام کو ذمہ دار بنایا جائے گا کہ وہ حکومت کے بلڈنگ لے آؤٹ پرمیشن کی پابندی کریں۔ نئے قانون کے تحت 75 مربع گز اراضی پر تعمیر کے لئے حکام سے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم اراضی کو شہری مجالس مقامی ٹی ایس بی ایس کے ذریعہ رجسٹر کرانا ہوگا۔ 75 تا 600 مربع گز اراضی پر تعمیر کے لئے عوام کو فوری اجازت دی جائے گی اور انہیں ٹی ایس بی پاس کے تحت سیلف سرٹیفکیشن داخل کرنا ہوگا جس کے بعد وہ تعمیری کام کا آغاز کرپائیں گے۔ 600 مربع گز سے زائد اراضی پر تعمیری اجازت کی صورت میں متعلقہ عہدیدار درخواستوں کی جانچ کریں گے اور اندرون 21 دن ضروری پرمیشن جاری کیا جائے گا ۔ دستاویزات کی کمی کی صورت میں اندرون 10 یوم درخواست گزار کو اطلاع دی جائے گی۔ نئے قانون کے تحت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور تمام دیگر میونسپالٹیز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اندرون 21 یوم تعمیری اجازت جاری کریں، بصورت دیگر اجازت کی منظوری متصور کی جائے گی ۔ کے ٹی راما راو نے بتایا کہ بینک لون یا دیگر مالی امداد کے حصول میں مدد کیلئے متعلقہ بلدیہ کے کمشنر اور ٹاؤن پلاننگ آفیسر کی دستخط سے سرٹیفکٹ جاری کیا جائے گا ۔ آکوپینسی سرٹیفکٹ متعلقہ دستاویزات کے ادخال کے اندرون 15 یوم جاری کیا جائے گا ۔ نئے قانون کا مقصد دفتری امور میں مداخلت کو کم کرنا اور بلڈنگ پرمیشن کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کو ان کی ذمہ داری سے واقف کرایا جائے گا ۔ حکام کو دستاویزات کی کمی یا کسی بے قاعدگی کی صورت میں درخواست مسترد کرنے کا اختیار حاصل رہے گا ۔ اگر کوئی غیر مجاز یا غیر قانونی تعمیر سرکاری یا کسی شخص کی اراضی پر کرے تو بلدی حکام کو کسی نوٹس کے بغیر انہدامی کارروائی کا اختیار رہے گا ۔